ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تجزیہ 29

روس پر یوکیرین کا قبضہ جاری ہے تو روسی فوج  کے یوکیرین   کے جنگی میدان میں  نقصانات میں  گہرائی آ رہی ہے۔  صدر ولا دیمر پوتن  کی  غیر شعوری  خطاؤں کی  بنا پر  ریشین فیڈریشن کو اسوقت وسیع پیمانے پر  بین الاقوامی   سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔  پوتن کی جانبب سے شام  سے اسد انتظامیہ سے منسلک   فوجی عناصر کو یوکیرین   منتقل کرنے کا آغاز کر نے سے  یوکیرین  جنگ کے شام  کے ممکنہ  نتائج کے توقعات سے کہیں پہلے  منظر عام پر آ سکنے کا اشارہ دینے لگے ہیں۔

سیتا  خارجہ پالیسی تحقیق دان  جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔

روس  ایک آسان  فتح کا متلاشی تھا تو اب  یوکیرین   کے کیچڑ  سے بھرے جنگی  میدان میں  قدم بہ قدم   دلدل میں پھنسنے  کا مشاہدہ  ہونے لگا ہے۔   جنگ  چھڑنے کے تیسرے  ہفتے  تک  تا حال اہم شہروں پر قبضہ   نہ کرسکنے والی اور فضائی بالا دستی قائم نہ کر سکنے والی   ایک روسی فوج ہمارے سامنے  ہے۔  روسی فوج  گوریلا    طرز کی مزاحمتی جنگ کرنے والے  یوکیرینی فوجیوں کے سامنے  نمایاں  سطح کے نقصانات برادشت کر رہی ہے۔  فوجی اعتبار سے یہ  ہر گز پائدار نہیں ہے، میدان ِ جنگ میں حالات  ہر گز موزوں نہیں  ہیں تو صدر پوتن  کا مشرق وسطی میں ہزاروں  رضا کاروں کے یوکیرین جنگ میں روسی فوج کی صف میں  شامل ہونے  کے خواہش مند ہونے کے بیان نے  ایک  بار پھر تمام تر نگاہوں کو  خاصکر شام کی جانب موڑ دیا ہے۔  پوتن کی یوکرین میں   مہم  جوئی کے  فطری طور پر شام میں بھی نتائج سامنے آئیں گے تا ہم اسد انتظامیہ سے  منسلک  فوجی عناصر  کو یوکیرین جنگ کی جانب  سرکانے سے یہ عمل  کہیں  زیادہ تیزی پکڑ لے گا۔

اولین طور پر  شامی میدان میں  طاقت کے محرکات  روس، اور نتیجتاً اسد انتظامیہ کے برخلاف  بدلنے   شروع ہو جائینگے۔  روس اسوقت  عسکری  طور پر یوکیرین  پر مرکوز ہے  تو اس  نے  شام میں متعین جدید فوجی سازو سامان اور خاصکر  تجربہ کار پائلٹوں اور خصوصی ٹیموں کو  یوکیرین کی جانب   منتقل  کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح ویگنر  عناصر بھی یوکیرین  جا رہے ہیں۔   دوسری جانب  ترک دفاعی صنعت کے چشم  و چراغ   بائراکتار ٹی بی ٹو  کی روسی  روایتی قوتوں کے برخلاف  کامیابیاں  بھی ترکی  کے شام میں  ہاتھ کو  روسیوں کے برخلاف مضبوط  بنا رہی ہیں۔  آبناؤں   کو  روسی جنگی  بحری جہازوں  کے لیے بند کیا جانا  روسیوں  کی شام میں فوجی   نقل و حمل  کو بھی مزید مشکلات سے دو چار کر رہا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ  عالمی تنہائی  سے دو چار روسی معیشت  اسد انتظامیہ کو مزید کب تک  تعاون  فراہم کر سکنے کے عمل کو بھی  کٹھن سے کٹھن بنا رہی ہے۔

یقیناً شام کے بارے میں مغربی بلاک بالخصوص امریکہ کا نظریہ، وہاں روس کی فوجی موجودگی اور اس کی اتحادی اسد حکومت بھی بالکل بدل جائے گی۔ اس کی روس کی حمایت سے اپنی بین الاقوامی قانونی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کی حکومت کی کوششیں اب ممکن نہیں رہیں۔ شام میں سیاسی اور فوجی طاقت کی حرکات و سکنات  اب ترکی اور شامی اپوزیشن کے حق میں ہوتی جائینگی۔ اسد حکومت کا سیاسی حل کے بجائے فوجی حل کی تلاش اب کوئی ایسا آپشن نہیں رہا جو ممکن نظر آتا ہے۔ اسے نئی مساوات میں مزید رعایتیں دے کر سیاسی حل کے عمل کا حصہ بننا ہوگا، ورنہ اسے نئے فوجی آپشنز کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ یوکرین کی جنگ کا طول اور گہرا ہونا شام میں ان محرکات کے گرد توازن کو مضبوط کرے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں