اسلام آباد (صباح نیوز/ آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن حکومت اور فوج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا چاہتی ہے‘پاکستان کی فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے‘ ان کے ساتھ نہیں ہے کیونکہ سپاہی چور کے پیچھے کھڑا نہیں ہوتا۔ عدالت عظمیٰ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل163 اے آئین کا ایک اہم حصہ ہے‘ ہم نے اس کی تشریح کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے‘ ہم عدالت عظمیٰ سے پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان میں ضمیر فروشی اور لوٹا کریسی کی اجازت ہے یا نہیں ۔ فواد چودھری نے کہا کہ جتنی سازشیں اس اپوزیشن نے او آئی سی کے اجلاس کے خلاف کی ہیں اتنی تو اسرائیل اور بھارت نے بھی نہیں کیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے لوگوں کو 7 روز کا نوٹس دیا ہے کہ وہ واپس آجائیں‘ اگر واپس نہیں آتے انہیں تاحیات نا اہل کردیا جائے گا‘ جب تک اسپیکر ان کی بات مان رہے تھے تو ٹھیک تھے‘ اب ان پر زبانی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کا پورا میڈیا سیل ملوث ہے‘ ہم نے مخالف پارٹی کے ایک بھی ایم این اے کو نہیں توڑا‘چوروں اور لٹیروں کے خلاف جدوجہد جاری ہے‘ یہ سلسلہ منطقی انجام کو پہنچے گا ‘ عمران خان مافیاز کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں‘ مولانا فضل الرحمن نے پورے سیاسی کیریئر میں اسلام کے نام پر ووٹ لیا لیکن اسلام کے لیے کیا خدمت انجام دی۔