ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

!میں نے سندھ سپر لیگ دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

کل رات کراچی کے پیپلز اسٹیڈیم میں سندھ سپر لیگ کا افتتاح کیا گیا جو میں سمجھتا ہوں فٹبال کے فروغ اور کھلاڑیوں کی پروموشن کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس افتتاحی تقریب اور افتتاحی میچ کے حوالے. سے میں نے جو دیکھا اور جو کچھ محسوس کیا ایک قلم کار کی حیثیت سے اس کو قلمبند کرنا اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔اس تحریر کے ذریعے کسی پر تنقید کرنا یا کسی کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں بلکہ آنکھوں دیکھے حال کے تناظر میں اپنے احساسات و محسوسات کو بیان کرنا اپنا جمہوری حق سمجھتا ہوں۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اتنے بڑے ایونٹ کی پبلسٹی یا تشہیر کے حوالے سے کوئی ٰ کام نہیں کیا گیا ہورڈنگز تو اپنی جگہ لیاری یا شہر کے کسی بھی چوراہے پر اور یہاں تک کہ پیپلز اسٹیڈیم کے آس پاس ایک بینر تک آویزاں نہیں دیکھا جس کے باعث فٹبال کے بہت سے شائقین کے علم میں ہی نہیں کہ سندھ سپر لیگ کا کوئی ایونٹ پپیپلز فٹبال اسٹیڈیم میں شروع ہونے جارہا ہے۔
بہرحال ان تمام باتوں کے قطع نظر ہم صبح سے اس انتظار میں تھے کہ کب میچ کا وقت قریب ہو تاکہ ہم بھی جائیں اور سندھ سپر لیگ کے اس افتتاحی میچ سے لطف اندوز ہوں کہ جس میں لیاری اور ملیر سے تعلق رکھنے والے انٹرنیشنل لیول کے اعلی پائے کے کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ اسی انتظار میں جب افتاحی تقریب اور میچ کا وقت قریب آیا تو خوشی خوشی اپنے ایک سینئر ساتھی کے ہمراہ اسٹیڈیم کی طرف چل پڑا لیکن جب اسٹیڈیم کے قریب پہنچے تو کچھ جاننے والے لوگوں کو گھروں کی طرف واپس جاتے دیکھا ،معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ لمبی قطار میں رینجرز اہلکار تلاشی لے کر اسٹیڈیم کے اندر جانے دے رہے ہیں شاید وہ اس اذیت کو برداشت کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ بہر حال ہم بھی جب وہاں پہنچے تو لوگوں کی دو قطاریں دیکھنے کو ملیں اور دو سے تین جگہ تلاشی دینے اور بنیادی معلومات فراہم کرنے کے بعد جب اسٹیڈیم میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ گرائونڈ میں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی اور اسٹیڈیم کے اطراف میں نصب شدہ تمام لائٹس خراب ہونے کے باعث بند پڑی تھیں اور جب دونوں ٹیمیں گرائونڈ میں داخل ہوئیں تو کم روشنی کے باعث کھلاڑیوں کو پہچاننابھی مشکل ہورہا تھا۔ اتنے بڑے بجٹ کے پروگرام میں لائٹس کی خرابی کے باعث بند ہونا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔۔۔۔!
میچ کا آغاز ہوا تو کم روشنی اور گرائونڈ میں جگہ جگہ کھڈے ہونے کے باعث انتہائی غیر معیاری میچ دیکھنے کو ملا اور لگ ہی نہیں رہا تھا کہ کراچی کے نامی گرامی کھلاڑی اس میچ میں حصہ لے رہے ہیں کیوں کہ فٹبال کھلاڑیوں کے پیر وں کے بجائے زیادہ تر ہوا میں اچھلتی ہوئی نظر آئی۔ اور تو اور بد انتظامی کی انتہا اس وقت دیکھنے کو ملی جب میچ کے دوران کچھ انتظامی ورکرز ایک بڑا سے ہورڈنگ ہاتھوںمیں تھامے گرائونڈ کے اندر سے ہوتے ہوئے اس پار ہوئے لیکن کسی نے بھی ان کو روکنے کی کوشش نہیں کی کجا ریفریز اور کجا انتظامیہ۔ یہ غیر سنجیدہ عمل نہ صرف فٹبال کے قوانین کی مکمل خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ یہ فٹبال کے ساتھ ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ اللہ کرکے جب میچ کا پہلا ہاف اختتام پزیر ہوا تو گھرکی طرف لوٹنے پر اکتفا کیا اور جب اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گھرجانے کیلیے اٹھ کھڑا ہوا تو دیکھا اسٹیڈیم میں موجود آدھے سے زیادہ شائقین فٹبال اپنے گھروں کی طرف لوٹنے کو کمر کس چکے تھے۔
بہرحال سندھ سپر لیگ کا افتتاح بڑا مایوس کن لگا۔ اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ سندھ سپر لیگ کے اتنے بڑے ایونٹ اور اتنے بڑے بجٹ کی موجودگی میں افتتاحی میچ کے لئے تیاری نہ ہونے کے برابر تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ایونٹ کے باقی ماندہ میچز جو دن کی روشنی میں کھیلے جائیں گے ان میچز کی کیا صورتحال سامنے آتی ہے اور اس ایونٹ کا فائنل میچ جو فلڈ لائٹس کی روشنی مین کھیلا جانا ہے کیا اس وقت تک اسٹیڈیم کی خراب لائٹس کی مرمت کی جاسکے گی اگر نہیں تو بہتر یہ رہے گا کہ فائنل میچ کا انعقاد بھی دن کی روشنی میں کیا جائے اور اس ایونٹ کی تشہیری مہم موثر انداز میں چلائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شائقین فٹبال اس جانب متوجہ ہوں ۔۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں