وزیر اعظم عمران خان کی چھتڑی سے اڑنے والے سیاسی کبوتر کہاں کہاں پرواز بھرتے رہے؟؟؟؟؟
یہ ہیں وہ نام جو آجکل سیاسی اکھاڑے میں زبان زد عام ہیں۔تحریک انصاف کی ٹکٹ پر جیتنے کے بعد اختلافات کے حد سے بڑھ جانے پر اپنا راستہ جدا کر بیٹھے ہیں۔
1- احمد حسن ڈیہڑ نے 2008 میں ملتان کے حلقہ پی پی 200سے پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 2013کے الیکشن میں انہوں پی ایم ایل این میں شمولیت اختیار کر لی ۔ ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پرانہوں نےعملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرل تھی۔بعدازاں یہ پی ٹی آئی کا حصہ بن گئےتھے۔ اور آجکل ناراض ہیں
2- سید باسط سلطان بخاری 1997کے انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہوئے اسکے بعد 2002کے انتخابات میں ق لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے۔2013کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔2018کے عام انتخابات میں کامیاب رہے اور پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔
3- رانا قاسم نون جو اس وقت پی ٹی آئی کے منحرف رُکن ہیں،یہ 2018کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کے منحرف رُکن تھے۔راناقاسم نون،پہلی بار 2002کے انتخابات میں ملتان کے حلقہ پی پی 205سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ان کے خاندان کی سیاست کا آغاز قیام پاکستان کے فوری بعد ہوا تھا۔
4- نواب شیر وسیر 2008 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔مگر2013کے الیکشن میں یہ مسلم لیگ ن کے اُمیدوار طلال چودھری سے بھاری مارجن سے شکست کھا گئے۔یہی حلقہ جب 2018کے الیکشن میں این اے 102ٹھہرا تو ملک نواب شیر وسیر نے پی ٹی آئی ٹکٹ پر طلال چودھری کو شکست دی۔آجکل یہ رکن اسمبلی بھی خبروں میں ہیں
5-ڈاکٹر رمیش کمار کی سیاست کا آغاز 2002کے انتخابات سے ہوا۔یہ آزاد حیثیت میں پی ایس 61سے محض 34ووٹ لے سکے تھے۔یہ ق لیگ میں رہے،پھر پی ایم ایل این سے وابستہ ہوگئے۔جبکہ 2018کے انتخابات سے قبل یہ پی ٹی آئی میں چلے گئے۔یوں دو بار اقلیتی سیٹ پر قومی اسمبلی کے رُکن رہے۔شہباز گل سے منہ ماری کے بعد یہ بھی توجہ کا مرکز ہیں
6- کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی اڑان بھرنے کے لیے پہلی ایڑ انہوں نے لگائی راجہ ریاض 1993میں پنجاب اسمبلی میں صوبائی ممبر رہے۔یہ دوسری بار 2002کے انتخابات میں ایم پی اے بنے۔2008کے انتخابات میں بھی یہ ایم پی اے منتخب ہوئے۔یہ مئی 2016تک پیپلزپارٹی کا حصہ رہے،جبکہ 20مئی2016کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا او ر 2018 کے انتخابات میں این اے 110 سے کامیاب ہوئے۔
7-نور عالم خان 2008 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے پشاور کے حلقہ این اے 3سے ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ 2018کے الیکشن میں یہ پشاور کے حلقہ این اے 27سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’نور عالم کی اچھی شہرت سنی ہے۔اِن کو تحریکِ انصاف میں خو ش آمدید کہتا ہوں۔لیکن آجکل تحریک انصاف کے کارکنان ان سے خاصے ناراض ہیں
8-ریاض مزاری 2018کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے جیتے تھے۔یہ جہانگیر خان ترین کی بدولت پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔یہ الیکشن سے قبل مسلم لیگ ن سے علیحدہ ہوگئے تھے۔یہ سابق نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کے بیٹے ہیں۔
9-غفاروٹو 2018کے الیکشن میں بہاول نگر کے حلقہ این اے 166سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے،بعدازاں اِنھوں نے پی ٹی آئی کو جوائن کرلیاتھا۔یہ فیملی مختلف پارٹیوں سے مختلف ادوار میں وابستہ رہی ہے۔ان کے چچا میاں فدا حسین حلقہ پی پی 237سے ایم پی اے ہیں۔
10-حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی نزہٹ پٹھان2002کے الیکشن میں مخصوص نشست پر پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے سندھ اسمبلی کی رُکن بنی تھیں۔پھر پی پی پی سے منحرف ہو کر ق لیگ میں شامل ہوگئیں۔اکتوبر 2016میں پی ٹی آئی کو جوائن کیا۔2018کے انتخابات میں سندھ سے خواتین کی سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔
11-وجیہہ اکرم 2018کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی سے خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔2013کے انتخابات میں اِنھوں نے نارووال کے حلقہ این اے 116سے آزاد اُمیدوار کے طورپر حصہ لیا تھا ۔وجیہہ اکرم کو مخصوص نشست پر ایم این اے بنانا،پی ٹی آئی کا اہم فیصلہ تھا۔