فی زمانہ پاکستانی سیاست کسی سبزی منڈی یا لاری اڈے کا منظر پیش کر رہی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ پڑھے لکھے جاہلوں کے ہاتھ یہ ملک ایسے آگیا ہے جیسے کسی بندر کے ہاتھ ماچس کی ڈبیا آجائے اور وہ تماشے کے شوق میں پورا جنگل جلا کے راکھ کر دے
یہ آگ اور راکھ والے الفاظ ایک دم صادق آتے ہیں سیاسی صورتحال پہ اور سیاستدانوں پہ اور انکو مجبور کرنے والوں پہ بھی طاقت اور اجارہ داری کے شوق میں حضرت آدم کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تھا ، یوسف کو کنویں میں پھینک دیا گیا، کوفے والوں نے خانوادہ ختمی مرتبت کے خاندان سے بیوفائی و غداری کی پھر قیام پاکستان کے بعد یہاں آمروں نے اپنی اپنی باریاں لگائیں اور جب جی بھرا تو تماشے کی خاطر یہ سیاسی جمورے مارکیٹ میں پھینک دیے
مدعا بیاں یہ ہے کہ بھئی ہم لوگ اخلاقیات کے سکیل پہ انفنٹی مائنس میں جا رہے ہیں معاشرہ ، اقدار، تہذیب ، شائستگی، اخلاص، مروت، سمندر جیسے دل اور سوچنے والے دماغوں سے عاری ہجوم ہیں ہم اسکی وجہ یہ ہے کہ گھوم پھر کے تبدیلی کے نام پہ بھی وہی کچھ ہے جو محترم قائد اعظم اور لیاقت علی خاں کے بعد سے اب تک اسی تسلسل سے چلا آرہا ہے
چند خاندان چند چہرے اور انکے مفادات اسکے بیچ رگڑے کھاتی یہ عوام اور خواص کے ششکے ، بات کر رہا ہوں بدنام زمانہ سیاسی لیڈروں کی بدنام زمانہ اسلیے کہ فی زمانہ ہر وہ شخص جو سیاست میں ہے مخالفین کے لیے بدنام ، گھٹیا اور ناجانے کیا کچھ ہے
اسمیں حقیقت ہو بھی تو پہلے سیاست دبے الفاظ میں اسکا اظہار کرتی تھی لیکن جارحانہ انداز میں اب سلسلہ یہ ہے کہ جارحانہ انداز میں کھلے عام بکا جاتا ہے جو جی میں آئے زبان پہ آئے بک دو اور اسکے بعد کرائے کے ترجمانوں کو اس بیان یا بات کی تشریح پہ لگا دو
تحریک انصاف گالی گلوچ اور لعن طعن کی سیاست میں جدت لے آئی ہے قصور پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا تحریک انصاف کا لیکن تحریک انصاف کا مسلہ یہ ہے کہ یہاں جو جتنا پڑھا لکھا ہے وہ اتنا ہی بد زبان اور بد اخلاق ہے
اسکی وجہ ہے انکے لیڈر کی ایسے لوگوں میں پسندیدگی اور خود پسندی کہ میں اور میری پارٹی بس سچ ہیں باقی سب اس دنیا پہ جھوٹ اور صرف جھوٹ ہیں
شہباز گل ایک معاون خصوصی ہے جو وزیر اعظم عمران خان کا انتخاب اور لاڈلا ہے ایسے الفاظ جو بہت ہی معیوب اور گھٹیا خیال کیے جاتے ہیں ہمارے کلچر میں ان الفاظ کو ٹی وی چینلز پہ بولنا اور اسکی توجیہات پیش کرنے کا سہرا اس پی ایچ ڈی ڈاکٹر کو ہی جاتا ہے شاید اس نے مغلظات بکنے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ہے
بیوہ عورت کا دوسرا نام اور بروکر کا دوسرا نام سر عام ٹی وی چینلز پہ ڈھٹائی سے بولنا اور پھر ان پہ توجیہات پیش کرنا پی ٹی آئی کا کلچر ہے لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب سرکاری ٹی وی چینل پہ بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے اس بد تمیز و بد تہذیب شخص کو جوں کا توں بولتے دکھایا جاتا ہے
مجبوری ہو گی سرکاری چینل کی لیکن اب اتنی بھی کیا مجبوری کہ ایسے الفاظ جو خواتین طبقے کی تضحیک کا باعث ہوں انہیں سرکاری چینل سے نشر ہونے دیا جائے وہ بھی دھڑلے سے حیرانی ہے کہ ریاست مدینہ ثانی کی ترجمانی کرنے والا سرکاری چینل بھی اپنی اقدار بھول جاتا ہے
ایک نسل جوان ہو چکی اور دوسری جوان ہو رہی ہے اس نسل کو یہ کلچر ہمارے سیاستدان اور میڈیا کے ادارے مجبوری اور منافقانہ انداز میں دے رہے ہیں پھر سوشل میڈیا پہ ایسی باتیں چھپی تو رہتی نہیں تو کیا مان لیا جائے کہ ہم بد تہذیب جنگلی ہیں؟؟؟؟
رہنمائی درکار ہے کس سے سوال کیا جائے کون آخری سانسیں لیتی اخلاقیات کو پامال ہونے سے بچائے گا۔۔۔۔۔