ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امدادکےموضوع پر لکھی ہوئی کہانی کیسے ‘گھریلو زیادتی’ کی داستان میں بدل گئی: شفقنافیچر

روہنگیا کےبحران پر رپورٹنگ ،اپنے اندر، کس قدر تہہ در تہہ پیچیدگی کی حامل ہے، اس کاعوامی سطح پر بہت کم نوٹس لیا جاتاہے۔میانمار حکومت کے ہاتھوں ہونے والا تشدد، جس کا روہنگیا کو سامنا ہے اس سب کا محض ایک حصہ ہے جو اس اقلیت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔” مجھے دو ماہ سے غذائی امداد نہیں ملی”بنگلہ دیش کے’بالو خیل-کٹوپالونگ’نامی عارضی بستی کے غصہ ورحالیز احمد نے مجھےاپنے گھر کے باہر بتایا۔جب آپکو اپنے اہم وقت کا بہت ساحصہ ،اس جگہ گزارنا  پڑے جسے دنیا کا سب سے بڑا ریفیوجی کیمپ کہا جاتا ہے تو اس قسم کےمسائل  کے  بارے میں آپ سننے کےعادی ہو جاتے ہیں۔ پانچ لاکھ پچاسی  ہزار روہنگیا  مہاجر  اس  وقت اس کیمپ میں رہ رہے ہیں،جن میں سے ہر ایک  کے پاس ایک کہانی ہے دکھ درد اور  تکلیفوں سے بھری ہوئی۔
دھرتی پر موجود ایک صحافی کے طور پر ہماری کوشش ہوتی ہےکہ جس قدر کہانیا ں ہم سنا سکتے ہیں سنائیں۔لیکن ہمیں اس نقطہ نظر اور  موضوع کی  بھی تلاش ہوتی ہے جس کے اندر ہم کہانی  فریم کر سکیں۔جب حالیز  احمدنے مجھے اپنے راشن کے بارے میں بتایا تو اس نے بھوک اور خیراتی خوراک پرموضوع بھی فراہم کر دیا ، میں نے سوچا۔لیکن ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں کہ یہ سب کس طرف جا رہا ہے۔ جب ہم نے ‘ماجھی ‘ یا کمیونٹی لیڈر سے پوچھا کہ لوگوں کو خوراک کیوں نہیں مل رہی، تو اس نے مجھے بتایا کہ حالیز کو حال ہی میں طلاق ہوئی ہے اور کمیونٹی میں ہم پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ خوراک کا  زیادہ حصہ عورتوں کو ملے گا۔
اس سے پہلے کہ ہم اس  بارے جانتے، ماجھی جس کا نام ظفر عالم تھا پہلے ہی ہمیں کٹو پالونگ کے بہت اندر حالیز کی سابقہ بیوی ، صوفیہ خاتان کی طرف لے کر جا رہا تھا۔ہمارے صوفیہ کی نئی رہائش پرپہنچنے کے بعد ، ظفر عالم نے ہمارا تعارف وہاں موجود اپنے دوسرے ہم عہدہ شخص سے کروایا ۔ ا ن دونوں نے مل کر ، طلاق کے بعد، صوفیہ کی دوبارہ آبادکاری میں مدد کی تھی ۔ ہر چیز تیزی سے حرکت کر رہی تھی، اور چند منٹ میں ہی ہم صوفیہ کی جھونپڑی کے اندر  اسے آنسوؤں کو ساتھ روتے ہوئے  دیکھ رہے تھے ۔وہ اپنی  شادی کے آخری چند تکلیف دہ مہینوں کو یاد کر رہی تھی۔گزشتہ سال میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش آنے کے بعد ، حالیز نے ‘یابا’ استعمال کرنا شروع کردیا تھا ، اس نے ہمیں بتایا۔ یابا ایک ایسی منشیات ہے جو روہنگیا کی اس آبادی میں دستیاب ہے۔اس نے اسے ترک کرنے کو کہا لیکن ہر بار اس کی التجاؤں کا جواب تشدد سے دیا گیا ۔میرے احتجاج کرنے پر اس نے مجھےطلاق دے دی اور  جھونپڑی سے باہر پھینک دیا۔
صوفیہ نے اپنے بازو پر تشدد کے نشانات  دکھائے۔ اس وقت تک جھونپڑی میں آٹھ لوگ موجود تھے،جس میں دیگر کے علاوہ دو ‘ماجھی’ اور  صوفیہ کے دو بچے شامل تھے۔ جھونپڑی سے باہر بھی ایک مجمع تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گیا تھا۔ظافر  نے انہیں بھگا دیا۔مجھے برا محسوس ہوا۔ ہمارا کیا حق تھا کہ ہم جو کچھ اس پر گزر چکی تھی ،اس کے بعد اسے اس ناپسندیدہ توجہ کا مرکز بناتے۔ہم جو پہلے سےہی احساس جرم کا شکار تھے ، ثقافتی لحاظ سےہمیں نامناسب  لگا کہ ہم اسے کہیں کہ وہ اپنے بازو سے قمیض چڑھا کر ہمیں اپنےزخموں کے نشانات دکھائے۔ لیکن اس نے اپنی بائیں آنکھ کے پاس زخم کا نشان دکھایا، جہاں اس کے سابقہ شوہر نے وار کیا تھا۔” اس نے اس قدر زور سےتھپڑمارا کہ مجھے لگا میں اندھی ہو جاؤں گی۔ "
مخمصہ
جیسا کہ اور  لوگ  بھی جانتےہیں ،  روہنگیا کےکیمپوں کی کہانیوں کی صداقت جانچنا مشکل کام ہے۔ اور یہ تو خاص کر پیچیدہ ہوتی جارہی تھی۔ اور جب ہم نے اس پر غور شروع کیا تو ہمیں لگا کہ زیادہ گہرائی تک جانےکے لیے ہمارے پاس ایک بہت اہم چیز کی کمی تھی اور وہ چیز وقت تھا۔ ہم نے کاکس بازار لوٹنے کا جو وقت مقرر کر رکھا تھا ہم پہلے ہی اس سے لیٹ ہو چکے تھےاوراس سے کہیں پہلے مجھے بنگلہ دیش چھوڑ دینا تھا۔لیکن جب ہم صوفیہ کی جھونپڑی سے باہر آئے تو میں اگلے قدم کے بارے میں تقسیم ہو چکا تھا۔جو کچھ ہم نے ابھی سنا تھا  ، اس پر،  میرا ایک حصہ حالیز کے مقابل ہونے کے حق میں تھا۔ واضح طور پر اس کہانی میں خلا موجود تھے۔
ظفر عالم نے اگر چہ کہا کہ  اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ اور جونہی ہم حالیز کی جھونپڑی کی طرف روانہ ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ  اس مبینہ تشدد کے بارے کرنے سے  پہلےہم اس سے خوراک کے بارے میں بات کریں گے۔ لیکن ہم حیران ہوئے کہ ہمیں اس پر بات نہ کرنا  پڑی ۔میں نے اپنی بیوی کو مارا” اس نے ہم سے با ت کرتے ہوئے پیشگی اقرار کیا۔ اس نے کہا کہ اس کا غصہ اس بات پر بھڑک اٹھاتھا جب اس نے میرے ایک دوست کے بارے میں بتایا کہ وہ اسے پسند کرتی ہے۔ میں اس کے اس واضح اعلان پر بھونچکا رہ گیا۔
” بعض اوقات وہ اس کے ساتھ گپ شپ کرتی تھی۔ ایک مرتبہ میں نے اسےکہا کہ اس سے بات مت کیا کرو۔وہ میری عورت ہے ، اسے دوسرے مرد کی کیا ضرورت ہے۔ وہ مجھ سے باتیں کر سکتی تھی۔”حالیز نے ‘یابا’ لینے یا چاقو سے حملہ کرنے کی بات سے انکار کر دیا۔ لیکن کیا  اس ےعلم نہیں  تھا کہ اسے پیٹنا  غلط بات ہے۔” وہ غلط کر  رہی تھی ۔ اگر میں اسے مارتا ہوں تو وہ ٹھیک ہو جائےگی۔ "اس نے کہا۔میں اس کے کھردرے پن پر جیسے چت ہو گیا۔ میں نے شاہین اور مراد سے کہا کہ اسے بتاؤ کہ ہم صحافی ہیں اور اس کی کہانی شائع  ہو سکتی ہےوہ یہ بات سمجھ گیا اور پھر بھی اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ ایک گھنٹہ پہلے میں غذائی امداد پر بات کرنا چاہ رہا تھا اور اب  گھریلو تشدد پر بات ہو رہی تھی۔ مجھے سمجھ نہ آیا  کہ جو کچھ یہ  شخص بتارہا ہے اس  پرمیں اس کے ساتھ کیا کروں ۔لیکن میں سمجھ گیا کہ میں پہلا صحافی نہیں جس  کے سامنے کسی شخص نے گھریلو  تشدد  کا اقرار کیا ہو۔ مجھے یہ بھی پتہ تھا  کہ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔
فروری کی پچیس تاریخ  تک، بنگلہ دیش میں روہنگیا خواتین کےساتھ گھریلو تشدد کے پانچ ہزار، پانچ سو،  چھیاسی واقعات رپورٹ ہو چکے تھے۔اور انسانی  حقوق کےلیےکام کرنےوالوں کا کہنا ہے کہ جن حالات  سے یہ کمیونٹی گزر چکی ہے ایسے میں  اس طرح  کے واقعات حیران کن نہیں۔جب ہم کاکس  بازار واپس آ رہے تھے تو مجھے ضرورت محسوس ہوئی کہ جو کچھ میں نے سنا اس کے بارے ضرور لکھوںگا۔کیا یہ بھی میری زمہ داری تھی کہ اگر کوئی شخص بیوی کو مارنے کا اقرار کر رہا تو کیامجھے حکام کو خبر کرنا چاہیے؟یا پھر ایک باہر کے آدمی کے طور پر جسکے بارے کمیونٹی لیڈر پہلے ہی  ایک اپنی قسم کا حل ڈھونڈ چکے ہیں میں بھی اس میں مداخلت کروں ؟ اپنے گھر  واپس آ کر میں نے اس صورتحال کے بارے میں دوسروں کو بتایا ۔ ایسا  دکھائی دیتا تھا کہ کسی کو بھی ٹھیک ٹھیک علم نہیں کہ ایسی صورت حال میں کیا کرنا  چاہیے ۔
کچھ عرصہ بعد میں نےمراد کو فون کیا کہ وہ ماجھی  سے مل کر  مجھے تازہ حقائق کے بارے میں بتائے ۔اس کا جواب آیا کہ ماجھی کہہ رہا ہے کہ وہ دونوںواپس اکٹھے رہ رہے ہیں۔ میں اپنےآپ کو بہتر محسوس کرانے کےلیے یہ سب  نہیں لکھ رہا بلکہ اس بات کی وضاحت  کر رہا ہوں کہ ایسے بحران پر رپورٹنگ مین کس قدر گہری پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔اگر چہ روہنگیا بھی میرے اور آپ کیطرح کے انسان ہیں لیکن لگتا ہے کہ ہم دو مختلف سیاروں پر جی رہے ہیں۔ بطور جرنلسٹ ہم ایک یا دو ہفتوں کے لیے پیراشوٹ کے زریعے ان تک اترسکتے ہیں کہ دنیا کو ان مصائب کے بارے بتا سکیں جو ان پر گزر رہے ہیں۔
جمعرات، 24 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post امدادکےموضوع پر لکھی ہوئی کہانی کیسے ‘گھریلو زیادتی’ کی داستان میں بدل گئی: شفقنافیچر appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں