ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا عمران خان مستعفی ہوجائیں گے؟

مشیر برائے زراعت سندھ منظور وسان کا وزیر اعظم عمران خان سے متعلق  کہنا ہے کہ عمران خان جلسے میں استعفیٰ دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ منظور وسان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملکی سیاست کے لیے دو تین دن بہت اہم اور مشکل ہیں، قومی اسمبلی میں عمران خان کی اکثریت نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ  ہر جگہ سے اپوزیشن کے حق میں فیصلے آرہے ہیں، اپنے ہی لوگ عمران خان سے دھوکا کر رہے ہیں۔ کئی سینیر تجزیہ کاروں نے یہ دعوٰی بھی کیا ہے کہ  وزیراعظم عمران خان 27 مارچ کو جلسے میں ملک کے اہم ادارے کے سربراہ یا استعفے کا اعلان کردیں لیکن وہ وزارت عظمیٰ چھوڑ دیں اس کا امکان بہت ہی کم ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر عمران خان کو اس روز مجمع زیادہ مل گیا تو نہ جانے وہ کیا کیا اعلانات کر دیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے بعد آئندہ سال انتخابات تک جو کھچائو پیدا ہوگا، اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ یہ کھچائو گہرا اور خطرناک ہوگا اور واقعی ملک کی چولہیں ہلا کر رکھ دے گا۔ یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ اٹھارہویں ترمیم میں ایک عجیب بات ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ناصرف پاور بلکہ سیاست بھی صوبوں تک چلی گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں خود کو محدود پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں۔ قومی سطح پر ان کی ان پٹ اتنی زیادہ نہیں ہے۔ آئندہ انتخابات میں بھی سندھ پیپلز پارٹی کے پاس رہے گا۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت برقرار رہ سکتی ہے۔ صوبہ پنجاب مسلم لیگ ن کے پاس واپس آ جائے گا۔ جبکہ بلوچستان میں مخلوط حکومت بنے گی۔
گزشتہ دو ہفتے کے دوران عمران خان کی چال ڈھال، طرز گفتگو اور انداز تکلم سے شکست خوردگی اور شدید پریشانی کا اظہار ہوا ہے۔ یہ کیفیت صرف وزیر اعظم کے مخالفین ہی نے نوٹ نہیں کی بلکہ ان کے حامی بھی اس کیفیت کو دیکھ کر بوکھلائے ہوئے ہیں۔ اسی لئے جلسوں میں عمران خان جو زبان اپنے سیاسی حریفوں کے علاوہ اپنی ہی پارٹی کے منحرف ارکان کے بارے میں استعمال کرتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے اس سے کئی گنا بدترین انداز میں سیاسی مخالفین کے علاوہ اسٹبلشمنٹ کے چیدہ چیدہ نمائیندوں کو مخاطب کیا ہے اور افترا پردازی کے نت نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ اس رویہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دوسروں کو ’گھبرانا نہیں ہے‘ کا درس دینے والے لیڈر کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے حامیوں نے بدحواسی میں دشنام طرازی اور الزام تراشی کی تمام حدود پار کرلی ہیں۔
یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ سوشل میڈیا پر اداروں اور شخصیات کے خلاف بہتان باندھنے والے عناصر کو عمران خان کی براہ راست آشیر واد حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا سے گفتگو میں جہاں انہوں نے حیران کردینے کی ناقابل یقین صلاحیت کا یقین دلایا اور اعلان کیا کہ وہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے ، اس کے ساتھ انہوں نے فوج کی خدمات گنواتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ یہ ملک مضبوط فوج ہی کی وجہ سے محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فوج کو غلط تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مضبوط فوج ملک کی ضرورت ہے۔ افواجِ پاکستان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر پاک فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے۔ اپنی سیاست کے لیے ملکی سرحدوں کی محافظ فوج کو بدنام نہ کیا جائے‘۔
ایسے نرم الفاظ میں فوج کے بارے میں ترش گوئی ترک کرنے کا مشورہ سوائے اپنے حامیوں کے کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے پہلے جب اپوزیشن پارٹیاں فوج پر جانبداری اور موجودہ حکومت کی سرپرستی کا الزام عائد کرتی تھیں یا نواز شریف نے بعض لیڈروں کا نام لے کر سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا تو عمران خان اور ان کے ساتھی اس تنقید کو غداری ، وطن دشمنی اور بھارت نوازی قرار دیتے رہے تھے۔ اب اپوزیشن یقین سے یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ فوج اس وقت ’غیر جانبدار یا نیوٹرل ‘ ہےا ور سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہی۔ اس کا ثبوت خود عمران خان کی بدحواسی اور تحریک انصاف کی الزام تراشی نے فراہم کر دیا ہے۔
عمران خان نے استعفی نہ دینے اور آخری دم تک لڑنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ان کی اس بالک ہٹ سے دوست دشمن سب آگاہ ہیں۔ کسی کو عمران خان جیسے چھچھورے اور کم فہم لیڈر سے ایسی عالی ظرفی اور سیاسی بلوغت کی امید نہیں ہے کہ قومی اسمبلی میں اکثریت سے محروم ہونے کے بعد وہ باعزت طریقے سے استعفی دے دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد بھی وہ اسے ماننے سے انکار کرکے اپنے عہدے سے چمٹے رہنے کی کوشش کریں۔ آئین شکنی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیر کی گئی ہے تاکہ عمران خان کو گٹھ جوڑ کرنے اور ناراض ساتھیوں کو راضی کرنے کا زیادہ سے زیادہ وقت فراہم ہوسکے۔ اس کے علاوہ شدید بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے حد تاخیر سے سپریم کورٹ میں منحرف ارکان کے حق رائے دہی کے علاوہ پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے والوں کو تاحیات نااہل قرار دلوانے کا ’مشورہ‘ لینے کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔
عمران خان نے اپنے سینے کے ساتھ لگے جن پتّوں کو ایک روز پہلے ظاہر کر نے کی جو بات کی ہے ، اس کا تعلق قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کی کسی حکمت عملی سے نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کی سماعت میں طوالت کا عذر بنا کر کسی طرح قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر رائے دہی رکوانے یا اس کے نتیجہ کو مؤخر کروانے کی خواہش سے ہے۔ عمران خان کو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ سے ایسا حکم لیا جا سکے گا کہ منحرف ارکان نااہلی کے خوف سے عمران خان کی حمایت جاری رکھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اول تو یہ امر غیر یقینی ہے کہ کس حد تک سپریم کورٹ عمران خان کی سیاسی چال میں ان کی ’معاونت‘ پر راضی ہوگی لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ سپریم کورٹ حکومت کی خواہش کے مطابق باغی ارکان کو نااہل کرنے کی رائے دیتی ہے اور اس دباؤ میں عمران خان کسی طرح اپوزیشن کو 172 ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہونے دیتے تو ایسی ’میچ فکسنگ‘ سے بازی جیتنے پر وہ کس منہ سے اپنی سرخروئی کا اعلان کریں گے؟
جمعرات، 24 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا عمران خان مستعفی ہوجائیں گے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں