امریکہ کی پہلی خاتون وزیرخارجہ میڈلین البرائٹ چل بسی ہیں۔ ان کی عمر 84 سال تھی اور وہ ایک عرصے سے سرطان کےمہلک مرض کا شکار تھیں۔
البرائٹ خاندان نے گزشتہ روز ایک بیان میں ان کی موت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے خاندان اور دوستوں کے حصارمیں وفات پائی ہے۔وہ ایک محبت کرنے والی والدہ، دادی اماں ، بہن اور دوست تھیں۔وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی ان تھک چیمپئن تھیں
البرائٹ بچپن میں خاندان کے ہمراہ دوسری عالمی جنگ کے دوران میں اپنے آبائی وطن چیکوسلواکیہ سے نازیوں کے مظالم سے جان بچا امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔
سابق صدر بل کلنٹن نے1993ء میں اپنا منصب سنبھالنے کے فوری بعد اقوام متحدہ میں البرائیٹ کوامریکہ کی سفیر مقرر کیا تھا اور تین سال کے بعد1996ء میں انھیں وزیر خارجہ نامزد کیا تھا۔ اُس وقت وہ امریکی حکومت کی تاریخ میں کسی اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
البرائیٹ نے چارسال تک وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور نیٹو کی توسیع اورکوسوو میں فوجی مداخلت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔وزیرخارجہ کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد، وہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے اسکول آف فارن سروس میں پڑھاتی رہی تھیں اورانھوں نے نیویارک ٹائمز کی سات سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب بھی قلم بندکی تھیں۔
2012 میں اس وقت کے صدربراک اوباما نے البرائیٹ کو ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز”تمغہ آزادی "سے نوازا تھا۔انھوں نے 2020 میں ایلی میگزین سے بات چیت میں بتایا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی اس طرح کی ہوگی۔ ملازمت کا بہترین تجربہ پوچھے جانے پرانھوں نے کہا کہ وزیرخارجہ کی حیثیت سے اس نشان کے پیچھے بیٹھنا بہترین خوش گوارتجربہ تھا جس میں لکھا ہے:ریاست ہائے متحدہ امریکہ، خاص طور پراس بنا پر جب میں یہاں پیدا نہیں ہوئی تھی اور میں بہت شکرگزار امریکی ہوں۔
انھوں نے تین بیٹیاں اورچھے نواسے،نواسیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ ان کا ایک بھائی اور بہن بھی ہیں۔