ریاض: سعودی عرب کے شہریوں کا گروپ پہلی بار ماکر الشیا ھین نامی گہری غار کے اختتام تک پہنچنے میں کامیاب ہواہے جو سعودی عرب کے سب سے بڑے آتش فشاں غاروں میں سے ایک ہے۔
میڈیارپورٹس کے مہم جوں، عبداللہ الضیدان، عبدالعزیز السلمہ، ولید العلی، عبداللہ الدوسری اور بدر العلی نے گہرے غار تک اپنا سفرمکمل کیا۔ انہوں نے اس سفر پر اپنی حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے غار کو ایک مختلف دنیا اور ایک اور سیارہ یا سچائی کا افسانہ بھی قرار دیا۔اس دوران تقریبا ساڑھے 4 گھنٹے لگے اور تقریبا 6 کلومیٹر آنے جانے کا پیدل سفرطے کیا گیا۔
بدر العلی نے کہا اس غار کو سعودی عرب کا سب سے بڑا غار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 3 کلومیٹراور اونچائی 22 میٹر جبکہ چوڑائی 18 میٹر ہے۔یہ زیر زمین ایک نامعلوم دیو آتش فشاں ٹیوب کا حصہ ہے جس میں آتش فشاں میگما بہہ رہا تھا۔ اگر اس کا کچھ حصہ گر نہ جاتا تو اس کا آج تک علم نہ ہوتا۔انہوں نے وضاحت کی کہ مکر الشیاھین غار حرہ بنی رشید میں واقع ہے جو کہ آتش فشاں کا سب سے بڑا میدان اور سب سے بلند سعودی حرہ ہے۔
انہوں نے سعودی عرب میں 13 آتش فشاں حرے اور دو ہزار سے زیادہ آتش فشاں گڑھے شامل ہیں، جن میں 400 گڑھے بنی راشد حرہ میں واقع ہیں، جو کہ سعودی عرب کا سب سے بڑا آتش فشاں میدان اور سب سے بڑا گڑھا ہے۔انہوں نے بتایا کہ غار دیکھنے کا خیال ان کے ذہن میں 3 کلومیٹر سے زائد طویل اور 20 میٹر سے زیادہ اونچی دیو ہیکل غار کی دریافت کی خبر کے بعد آیا۔ دو سال قبل انہوں نے آتش فشاں کے عجوبے کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس غار کا آخری حصہ مدینہ کے شمال میں خیبر کے قریب واقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ غار ایک دیو، قدیم اور ابھی تک نامعلوم زیر زمین ٹیوب کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس میں ہڈیوں کی باقیات، لگڑ بھگا، بھیڑیوں کے نشانات اور پرندوں کے گھونسلے بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے۔
