اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کیس میں اپنے ہی 11 بینک اکائونٹس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا،یہ اکائونٹس پارٹی کے سینئر اراکین کی جانب سے کھولے گئے تھے۔جمعرات کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہاکہ اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کی جانب سے جمع کرائے جانے والے تحریری جواب میں یہ لکھا ہے کہ ان اکاؤنٹس کو بغیر اجازت غیرقانونی طور پر کھولا اور چلایاگیا ،ان 11 اکاؤنٹس کو غیرقانونی طور پر چلانے والوں میں موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، گورنر سندھ عمران اسماعیل، خیبرپختونخوا کے گورنر شاہ فرمان، پنجاب حکومت کے سینئر وزیر میاں محمودالرشید، سندھ سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی انجینئر نجیب ہارون، رکن سندھ اسمبلی ثمرعلی خان، سابق ایم پی اے سیما ضیا، خیبرپختونخوا سے پارٹی رہنما ظفراللہ خٹک، سابق صدر پی ٹی آئی سندھ جہانگیر رحمن، سابق جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی خیبر پختونخوا خالد مسعود، وزیراعظم عمران خان کے مرحوم2 قریبی ساتھی نعیم الحق اور احسن رشید شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے جانے والے اپنے جواب میں لکھا ہے کہ یہ افرادمجاز نہیں تھے کہ پی ٹی آئی کے نام پر اکائونٹس کھولتے انہیں چلاتے اور ان میں چندہ وصول کرتے ۔انہوں نے کہاکہ دلچسپ امریہ ہے کہ گزشتہ 4 سال کے دوران الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی میں اپنی جمع کرائی جانے والی دستاویزات میں پی ٹی آئی نے ان تمام 11 اکائونٹس کو اپنے اکائونٹس کے طور پرتسلیم کیا تھا۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ میں پہلے دن سے یہ کہہ رہا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فنڈنگ گھپلا ہے جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین سمیت تمام سینئر قیادت ملوث ہے، اکبرایس بابر نے مطالبہ کیا کہ عمران خان استعفا دیں کیونکہ فارن فنڈنگ کیس میں ناقابل تردید شواہد سامنے آچکے ہیں جن کا اب خود پی ٹی آئی بھی اعتراف کرچکی ہے۔