اسلام آباد/نئی دہلی(صباح نیوز)جموں وکشمیرکے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ بھارت کو غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں سنگین جرائم پرجوابدہ بنایاجائے۔ رابطہ گروپ کااجلاس اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 48ویں اجلاس کے موقع پر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اوآئی سی رابطہ گروپ نے کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت اوربھارتی تسلط سے آزادی کے حصول کے لیے ان کی جائز جدوجہدکی حمایت کااعادہ کیا۔اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ نے قراردیاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں وکشمیرکے تنازع کا حتمی حل عالمی ادارے کی زیرنگرانی استصواب رائے جنوبی ایشیا میں پائیدارامن واستحکام کے لیے ناگزیرہے۔رابطہ گروپ نے بھارت پرزوردیاکہ مقبوضہ علاقہ میں 5 اگست 2019 کو یا اس کے بعد کئے گئے تمام غیرقانونی اوریکطرفہ اقدامات واپس لے۔علاوہ ازیں او آئی سی نے بھارتی میزائل فائر کی مشترکہ تحقیقات کے لیے پاکستان کے مطالبے کی توثیق کردی۔دوسری جانب بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر مکمل طور پر بھارت کا داخلی معاملہ ہے، چین سمیت دیگر ممالک کے پاس اس پرتبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت اپنے داخلی مسائل کے بارے میں عوامی فیصلے سے گریز کرتا ہے۔