برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو لگام دینے کا فیصلہ کرلیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق یورپی یونین میں ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے ،جس کے تحت گوگل، ایمازون، ایپل اور میٹا جیسی کمپنیوں کو کاروباری طور طریقے تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ یورپی یونین کے قانون سازوں نے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اختیارات کو کم کرنے اور انہیں اصول و ضوابط کے دائرے میں لانے کے لیے ایک معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ معاہدے کے تحت قوانین کی خلاف وزی پر کمپنیوں کو سالانہ عالمی آمدنی کا 10 فیصد تک کا جرمانا عائد کیا جائے گا۔ اور اگر کسی کمپنی نے دوبارہ اسی طرح کا جرم کیا تو اس کو مجموعی آمدنی کا 20 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یورپی یونین میں اینٹی ٹرسٹ محکمے کی سربراہ مارگریتھ ویسٹیجر نے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (ڈی ایم اے) کی ایک برس قبل تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑی کمپنیوں کا مارکیٹ پر غلبہ کم ہوگا اور چھوٹی حریف کمپنیاں مقابلہ کرنے کی اہل ہو سکیں ۔ اس طرح انہیں بھی زندہ رہنے کا ایک بہتر موقع مل سکے گا۔ یہ قانون ان کمپنیوں کے لیے اصول و قواعد کی تشکیل کرتا ہے جو ڈیٹا اور پلیٹ فارم تک رسائی کو کنٹرول کرتی ہیں۔