برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرین پر روسی جارحیت کے باعث یورپی اسلحہ سازوں کا کاروبار چمک اٹھا۔ خبررساں اداروں کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے ضابطوں میں پائیداری برقرار رکھنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری اہم ہو گی۔ اس تناظر میں یوکرین میں روسی جنگ کی وجہ سے ہتھیار سازوں نے سرمایہ کاروں کو لبھانا شروع کر دیا ہے۔ یورپی شہریوں کا خیال تھا کہ اب براعظم یورپ کی سرزمین پر جنگ نہیں ہو گی ، لیکن یہ خام خیالی ثابت ہوئی۔ اس سے قبل ہتھیار ساز صنعت نے ملازمین کی مراعات میں کمی کی تھی ، کیوں کہ سرمایہ کار پیچھے ہٹتے جا رہے تھے، لیکن روسی جارحیت کے باعث ہتھیاروں کے سوداگروں نے سرمایہ کاری تیز کردی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمنی نے حالات کے تحت اپنی پالیسی تبدیل کی ہے اور یوکرین سے ڈیڑھ ہزار ٹینک شکن اور طیارہ شکن میزائل دینے کا وعدہ کیا ہے۔