ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وزیراعظم کی ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں نہ کوئی ٹرمپ کارڈ نہ سرپرائز، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو جلسے میں سرپرائز دینے کا اعلان کیا تھا اور آج اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والے جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے عوام کو وہ ‘سرپرائز’ بتادیا جس پر ، پی ٹی آئی کارکنان، صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے مختلف نوعیت کے تبصرے کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے تقریباً دو گھنٹے دورانیے کی تقریر کی اور اس دوران لوگ وزیراعظم کے سرپرائز کا ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرتے رہے، آخر میں وزیراعظم نے سرپرائز بتایا، انہوں نے جیب سے خط نکال کر دکھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملکی مفاد کا کہہ کر دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ باہر سے پیسے لے کر حکومت گرانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی اور حکومت بدلنے کی کوشش باہر سے کی جارہی ہے۔

وزیر اعظم کے طویل خطاب پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ملک کے نامور صحافیوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کی تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان کی طویل تقریر ختم ہو چکی اور لوگ سرپرائز کا انتظار کرتے رہ گئے، اب سرپرائز دوسری طرف سے آئیں گے ۔۔۔اللّٰہ پاکستان کی خیر کرے۔

نیوز اینکر منصور علی خان نے ایک سوالیہ ٹوئٹ کرتے ہوئے پوچھا کہ ٹرمپ کارڈ کیا تھا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ایک اور یو ٹرن، کسی سرپرائز کا اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم کی تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے عہدیدار اور وزیراعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن نے لکھا کہ ” خان صاحب وہ سب تو ٹھیک ہے، آگے کیا کرنا ہے ہم نے وہ تو پلیز بتا دیں، اصل بات جس کے لیے بلایا ہے”

وقاآص امجد کے ٹوئیٹر کے مطابق وہ وزیراعلی پنجاب کے بلدیات کے فوکل پرسن ہیں۔

سینئر صحافی مبشر زیدی نے بلا تبصرہ ایک وڈیو کلپ شیئر کیا۔

صحافی معز جعفری نے بھی ایک سوالیہ ٹوئٹ کی اور لکھا کہ ٹرمپ کارڈ کیا تھا؟

سینئر صحافی نصرت جاوید نے بھی اپنے ایک سوالیہ ٹوئٹ میں لکھا کہ سرپرائز کو کیا ہوا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں