ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چشمہ شفاء۔31

ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

آج ہم آپ کے ساتھ صحت کے جس مسئلے اور اس کے گھریلو علاج کے بارے میں بات کریں گے وہ ہے "گردے میں پتھری”۔

آئیے سب سے پہلے  یہ دیکھتے ہیں کہ گردوں میں پتھری  کے سدباب کے لئے کیا کیا احتیاطیں کرنا ضروری ہے۔

 

وافر پانی کا استعمال:

دن بھر میں وقفوں وقفوں سے اڑھائی لیٹر کے لگ بھگ پانی کا استعمال کریں۔ پانی کے علاوہ اسکنجبین،  مالٹے کا جوس، گریپ فروٹ  اور وٹامن سی والے پھلوں کا تازہ جوس بھی گردوں میں پتھری بننے سے بچاتا ہے۔ خیال رہے کہ پھلوں کا جوس تازہ ہو کیونکہ ڈبے کے جوس بیماری میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

 

نمک سے پرہیز:

نمک کا زیادہ  استعمال انتڑیوں میں کیلشئیم  جذب ہونے میں اضافہ کرتا  ہے۔

 

حیواناتی پروٹین کے استعمال میں کمی:

حیواناتی پروٹین والی غذائیں، پیشاب میں موجود اور پتھری کا سبب بننے والےیورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ کرتی ہیں۔ لہٰذا انڈے، گوشت، اور سمندر سے حاصل ہونے والے حیواناتی پروٹین کے وافر استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ  خشک پھلیوں، کھمبیوں، پالک اورگوبھی جیسی پروٹین کی وافر مقدار کی حامل غذاوں کے استعمال کو بھی محدود کر دینا چاہیے۔

 

جسم کی کیلشئیم کی ضرورت کو پورا کریں:

ایسی غذائیں استعمال کریں جن سے جسم کی کیلشئیم کی ضرورت پوری ہو سکے ۔ کیلشئیم کی کمی گردے میں پتھری بننے کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔

 

گردے میں پتھری کے خطرے میں اضافہ کرنے والی دیگر غذائیں:

چائے، کافی، چقندر، سویا، چاکلیٹ، کوکو،   خشک انجیر، سیاہ مرچ، فندق، خشخاش، پالک، اسٹرابیری اور بلیک بیری جیسی نمک ترش  کی وافر مقدار والی غذائیں اور کولا اور گیس والے مشروبات بھی گردے میں پتھری کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔

 

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ کون سی چیزیں گردے میں پتھری کے خاتمے کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہیں:

لیموں اور زیتون کے تیل کا آمیزہ،

سیب کے سرکے اور شہد  کا آمیزہ اور

بچھوا بوٹی اور بِلبیری کاآمیزہ پتھری کے مقابل موئثر ثابت ہوتا ہے۔

 

 مذکورہ بالا آمیزے نہ صرف پیشاب کے راستے میں التہاب کو کم کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گردوں میں موجود پتھری کو چھوٹا کر کے جسم سے خارج ہونے میں بھی آسانی پیدا کرتے ہیں۔

 

کدو کا مغز:

گردے میں پتھری کے علاج کے لئے دن میں 10 سے 30 گرام پِسے ہوئے کدو کے مغز کے استعمال کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔

 

بچھوا بوٹی کے پتّے:

جسم سے پراگندہ خون  اور فاضل پانی  کے اخراج میں مفید بچھوا بوٹی کے پّتے گردے سے پتھری کے اخراج میں بھی نہایت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے استعمال کا طریقہ نوٹ فرما لیں۔

ڈیڑھ گرام باریک کٹے ہوئے بچھوا بوٹی کے پتّے150 ملی لیٹر پانی میں شامل کر کے اُبالیں۔ اُبال آنے پر برتن کو چولھے سے اتارلیں اور  ڈھکن  بند کر کے 10 منٹ کے لئے دم پر رکھ دیں۔ بعد ازاں چھان کر پی  لیں۔ یہ پانی گردے میں پتھری بننے کی روک تھام کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خیال رکھیں کہ دن بھر میں 8 سے 10 گرام سے زائد پتّوں کا  استعمال نہ کریں ۔استعمال کے دورانیے کو بھی 2 ماہ سے زیادہ لمبا  نہ کریں ۔

 

ثمر گلاب:

2 گرام موٹا موٹا کُٹا ہوا ثمر گلاب لیں اور ایک گلاس اُبلے ہوئے پانی میں ڈالیں۔ 10 منٹ کے لئے دم پر رکھیں اور بعد میں چھان لیں۔ اس پانی کو دن میں تین دفعہ کھانے سے آدھا گھنٹہ قبل پئیں۔  یہ پانی پتھری کے اخراج میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

 

پارسلے:

نہ صرف گردے کی پتھری  کے اخراج میں مدد دیتا ہے بلکہ گردے کے ٹیومر کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے۔

 

ایووکیڈو کے پتّے:

ایک گلاس کلورین سے پاک پانی کو اُبالیں۔ اُبلتے پانی میں تقریباً 2 سے 3 گرام ایووکیڈو کے خشک  پتّے شامل کریں اور دھیمی آگ پر 8 منٹ تک ابالیں۔ چولہے کو بند کریں اور پانی کو دم پر رکھ دیں۔ دم آنے کے بعد چھان لیں ۔ پانی کو نیم گرم شکل میں رات کے کھانے سے دو گھنٹے بعد پی لیں۔

ہر 5 دن کے استعمال کے بعد 3 دن کا وقفہ ڈالیں۔ پانی کے ذائقے کو تبدیل کرنے کے لئے کسی بھی چیز کا اضافہ نہ کریں اور 20 دن سے زیادہ اس پانی کو استعمال نہ کریں۔ اگر دوبارہ استعمال کرنا چاہیں تو 20 دن کے وقفے بعد استعمال شروع کریں۔ ایوو کیڈو چائے نہ صرف پتھری خارج کرتی ہے بلکہ اسے بننے سے بھی روکتی ہے۔

 

برگ ریز جھاڑی کا پانی:

ترکی کے ضلع قیصری اور اس کے اطراف میں پائی جانے والی برگ ریز جھاڑی کا پھل انگور کے گچھوں سے مشابہہ ہوتا ہے۔   30 سے 40 پھلوں والے اس گچھے کا استعمال گردے کی پتھری سے نجات کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔

 

بِلبیری:

تازہ یا خشک بِلبیری کا استعمال گردے کے درد سے نجات دِلاتا ہے۔

 

اسپ دُم:

اسپ دُم بوٹی پیشاب آور خصائص کی وجہ سے پیشاب کے راستے میں انفیکشن کے خاتمے کے لئے مفید سمجھی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ سیب، دہی اور حلوہ کدو بھی جسم سے پتھری کے اخراج میں آسانی پیدا کرنے والی غذائیں ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں