ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت آسٹریلیا تجارتی معاہدہ؛ آسٹریلیا تجارتی تعلقات کو متنوع بنانے کا حامی ہے، اسکاٹ موریسن

بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تاریخی معاہدے پر کاروباری رہنماؤں نےمسرت کا اظہار کیا ہے۔ تاہم معاہدے سے باہر رہ جانے والی صنعتوں نے کینبرا پر زور دیا ہے کہ بات چیت کو جاری رکھا جائے۔دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے کا اعلان ہفتے کو کیا گیا جس پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بات چیت جاری تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر چین پر انحصار کم کرنے کے لیے بے چین ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں سفارتی تناؤ کے بعد بیجنگ نے کچھ آسٹریلوی سامان پر پابندی عائد کردی ہے۔

آسٹریلیا کا کوئلہ ، شراب اور دیگر اشیا چینی حکام کی جانب سے عائد کی گئی مختلف پابندیوں کی زد میں آئی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازعہ کسی حد تک آسٹریلیا کی جانب سے کووڈ نانٹین کے آغاز کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کے بعد پیدا ہوا ۔ چین نے اس مطالبے کو وائرس سے، جس کا پہلی بار چین کے شہر ووہان میں پتا چلا تھا نمٹنے کے چینی طریقہ کار پر تنقید سے تعبیر کیا تھا۔

بھارت کے ساتھ معاہدہ آسٹریلیا کے اپنےتجارتی تعلقات کو متنوع بنانے کی ایک کوشش بتائی جا رہی ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کرکے یوکرین کو دھوکہ نہیں دیا ۔ بھارت نے یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے سے انکار کیا تھا۔

موریسن نے کہا کہ ان کی حکومت نے بھارت کے ساتھ یوکرین جنگ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کینبرا کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد کرنے اور میزائلوں کی فراہمی پر رضامندی کے بعد وہ نہیں سجھتے کہ کوئی بھی یوکرین کے لوگوں کی حمایت کے آسٹریلوی عزم پر کسی قسم کا سوال اٹھاسکتا ہے۔

تجارتی معاہدے سےکوئلے، اون اور تانبے سمیت بھارت کو پچاسی فیصد آسٹریلوی برآمدات پر محصولات ختم ہوگئی ہیں۔یہ معاہدہ آسٹریلیا درآمد کی جانے والی پچانوے فیصد بھارتی برآمدات، جن میں ٹیکسٹائل ، چمڑا اور زیورات شامل ہیں ، کا بھی احاطہ کرتا ہے۔

وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے ہفتے کو کہا کہ یہ معاہدہ آسٹریلیا کی خوشحالی کو فروغ دے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آج دنیا کے سب سے بڑے اقتصادی دروازوں میں سے ایک کو کھول رہے ہیں۔ ہم اس پرکئی برس سے کام کررہے تھے، خاص کر آخری ساڑھے تین سال ۔ہم دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک، بھارتی معیشت کا سب سے بڑا دروازہ کھول رہے ہیں۔

تاہم ڈیری، چنے اور گائے کے گوشت سمیت کچھ زرعی صنعتوں کو عبوری معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا۔ آسٹریلوی ڈیری انڈسٹری کونسل کے صدر رک گلیڈ ی گاو کو امید ہے کہ ایک جامع اور آزاد تجارتی معاہدے سے مقامی ڈیری فارمز کو مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ آغاز کے لیے کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے کچھ ہو۔ آزاد تجاررتی معاہدے سے مکمل طور پر باہر نہیں رہنا چاہیے تھا، اسی لیے ہم یہ معاہدہ کررہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ ہو۔دونوں ممالک ایک مکمل آزاد تجارتی معاہدے کےلیے کام جاری رکھیں گے۔

بھارت آسٹریلیا کا ساتواں بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سہولتوں اور ساما ن کی دوطرفہ تجارت کا حجم دو ہزار بیس میں اٹھارہ اعشاریہ تین ارب ڈالر تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں