اسلام آباد:تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ شہباز شریف کو نگران وزیراعظم کی مشاورت کا حصہ نہیں بننا تو ان کی مرضی ہے ، ہم دو نام دے چکے ہیں ، سات دن میں ہمارے ناموں میں سے ایک منتخب ہوجائے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور اس میں اپوزیشن کو دعوت دی، لیکن یہ لوگ نہیں آئے، اب اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو عبوری حکومت کے لئے خط لکھا ہے اور وزیراعظم کے لئے 3 نام دیئے ہیں، شہبازشریف نگران وزیراعظم کے نام پر یا مشاورت کا حصہ نہیں بننا چاہتے تو نہ بنیں، 7 دنوں میں اگر نگران وزیراعظم کا نام نہیں دیا جاتا تو پھر 3 ناموں میں سب سے اوپر جس کا نام ہوگا وہ وزیراعظم بن جائے گا۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ الیکشن سے راہ فرار ممکن نہیں،90 روز میں ملک میں الیکشن ہونا ہیں، پاکستان کے لوگ اس وقت الیکشن کے لیے تیار ہیں،متحدہ اپوزیشن چوں چوں کا مربہ ہے، 90 روز میں ملک میں الیکشن ہونے ہیں اور یہ لوگ الیکشن اور عوام سے بھاگ رہے ہیں، الیکشن سے راہ فرار ممکن نہیں، آئیں اور مقابلہ کریں۔
صدر مملکت کے خط میں کہا گیا ہےکہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوتے تو اسپیکر قومی اسمبلی 8 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بنائیں گے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارکان شامل ہوں گے جب کہ کمیٹی سابق قومی اسمبلی ارکان اور سینیٹ ارکان پر مشتمل ہوگی۔
خیال رہے کہ صدر مملکت نے وزیراعظم عمران اور شہباز شریف کے نام خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ اسمبلی تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر کسی ایک نام پراتفاق نہ ہو تو دونوں شخصیات دو دونام کمیٹی کوبھیجیں گی۔
دوسری جانب صدر مملکت کے خط سے متعلق سوال پر شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدر، عمران خان اور ڈپٹی اسپیکر نے آئین شکنی کی ہے، آئین شکن صدر کے خط کا جواب کس طرح دے سکتے ہیں۔