اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کی پیمرا کو اینالاگ سسٹم کی استعداد سے زیادہ ٹی وی چینلز کو لائسنس دینے سے روکنے کی درخواست پر سماعت سماعت ہوئی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی۔
پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پیمرا کے وکیل اور ڈی جی لائسنسنگ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ پیمرا مطمئن کرے کہ اس کے پاس زیادہ چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے،پیمرا ریگولیٹر ہے اسے صرف رقم جمع کرنے پر توجہ نہیں دینی چاہئے،وکیل پیمرا نے کہ عدالت یہ معاملہ دوبارہ پیمرا کو بھجوا دے، جس پر پی بی اے کے وکیل نے کہاکہ پیمرا انڈی پینڈنٹ کنسلٹنٹ سے سٹڈی کرا لے کہ کتنے چینلز دکھانے کی کتنی گنجائش ہے؟ جب تک ڈی ٹی ایچ سسٹم نہیں آتا اس وقت تک زیادہ چینلز کو لائسنس دینے سے متاثر ہوں گے،ڈی ٹی ایچ ڈسٹری بیوشن کا نظام ہے، ڈائریکٹ ٹو ہوم سسٹم لانے پر کوئی اعتراض نہیں، وکیل پی بی اے نے کہا کہ ابھی اس وقت دستیاب ڈسٹری بیوشن سسٹم اینالاگ ہے،پیمرا کا اپنا لیٹر ہے جس میں یہ مان رہے ہیں کہ ابھی فی الحال اتنے چینلز دکھانے کی گنجائش نہیں،اس طرح تو کیبل آپریٹرز پیسے لے کر جو چینلز چاہیں گے دکھائیں گے،اگر پاکستان میں دو سو چینلز دکھانے کی گنجائش ہوتی تو میری درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کر دیتے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کمپی ٹیشن بڑھانے کے لیے اچھا نہیں کہ زیادہ چینلز آئیں؟ وکیل پی بی اے نے بتایا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ زیادہ چینلز آئیں اور ہماری ایسوسی ایشن کے ممبر بنیں،ہم نئے اور پرانے تمام ممبرز کے حقوق کا تحفظ کریں گے،چیف جسٹس نے کہاکہ پیمرا کے افسر کو بلا لیں جو عدالت میں تحریری بیان دے کہ چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے،وکیل پیمرا نے جواب دیا کہ یہ تو سبسکرائبرز کی چوائس ہو گی کہ وہ زیادہ پیسے دے کر ڈیجیٹلائز سبسکرپشن لیں یا اینالاگ،بھارت میں ایک ہزار چینلز ہیں، وہ بھی تمام چینلز دکھانے کا سسٹم نہیں رکھتے، ہم کسی کنزیومر کو فورس نہیں کر سکتے کہ وہ لازمی ڈیجیٹلائز سبسکرپشن لے، آپشن ضرور دے سکتے ہیں، عدالت نے ڈی جی لائسنسنگ پیمرا کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں بتائیں کہ دنیا بھر میں کیا پریکٹس ہے اور کیا مزید چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟کیس کی مزید سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔