نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان میں کرفیو کے دوران مسلمانوں کے 40گھروں کوآگ لگا دی گئی۔بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے کرولی میں ہندوانتہاپسندوں اورپولیس نے مل کر24 گھنٹوں کے اندرمسلمانوں کے 40 گھروں کوآگ لگا دی۔ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں مسلمانوں کے جلتے گھروں سے بلند ہوتے آگ کے شعلے دیکھے جاسکتے ہیں۔کرولی میں ہندوانتہاپسندوں نے موٹرسائیکل ریلی نکالنے کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کیے اورلوٹ مار کی۔ہندوانتہاپسندوں نے ریلی میں مسلمانوں کوہندوؤں کے انتہاپسند نعرے لگانے پربھی مجبورکیا۔ پولیس نے مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے حسب روایت ہندوانتہاپسندوں کا ساتھ دیا۔مسلمانوں پرہندوانتہاپسندوں کے تشدد سے 100 سے زائد مسلمان زخمی ہوگئے۔ کرولی میں ہندوانتہاپسندوں کے مسلمانوں پرحملوں اورمسلمانوں کی دکانوں میں لوٹ مار کے بعد کرفیونافذ کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں بھارتی دارالحکومت میں ’ہندو مہاپنچایت‘ نامی تقریب میں انتہا پسند جنونیوں نے مسلمان صحافیوں کو جہادی قرار دیکر حملہ کردیا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو مہاپنچایت کے موقع پر دو انتہاپسند ہندو رہنمائوں اور ایک دائیں بازو کے منظورِ نظر ٹی وی چینل کے چیف ایڈیٹر نے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور مسلمان صحافیوں کو جہادی قرار دیاجس پر مسلمان صحافیوں نے احتجاج کیا تو جنونی انتہا پسند ہندوئوں نے صحافیوں پر حملہ کردیا۔ ان کے کیمرے توڑ دیئے اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ مدد کو آنے والے ہندو صحافیوں کے ساتھ بھی مارپیٹ کی گئی۔انتہا پسند ہندوئوں کے تشدد سے زخمی ہونے والے صحافیوں کی شناخت ارباب علی، میر فیصل اور محمد مہربان کے ناموں سے ہوئی ہے جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس نے تقریب کے منتظمین، دو انتہا پسند ہندو رہنمائوں اور سدھرشن نیوز کے چیف ایڈیٹر کے خلاف اشعال انگیز تقاریر کرنے اور تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔دریں اثناء بھارتی دارالحکومت میں مسلمانوں پر ہندو تہوار کے موقع پر 10 دن کے لیے اپنی گوشت کی دکانیں بند رکھنے کے لیے دبائو بڑھتا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق درگاہ مائی کی پوجا کے نام سے 10 دن تک جاری رہنے والے مشہور ہندو تہوار کے آغاز پر ہی مسلمانوں کو گائے کے گوشت کی دکانیں بند رکھنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔جنوبی اور مغربی نئی دہلی کے میئرز نے تجویز دی ہے کہ تہوار کے 10 دن تک مندر میں آمد و رفت زیادہ ہوجاتی ہے ایسے میں مندر آنے والوں کو دکانوں پر لٹکا ہوا گائے کا گوشت دیکھ کر تکلیف ہوگی۔میئرز کے مطابق اس سے ہندو کمیونیٹی کے جذبات بھڑک سکتے ہیں اور امن و عامہ کا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے اس لیے مسلمان ان 10 دنوں تک دکانیں بند رکھیں۔میونسپل اداروں کے سربراہان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گائے کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے بجائے سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے جسے کتے کھاتے ہیں اور گندگی پھیلتی ہے۔اس سے قبل ہی مودی کی جماعت کے کارندوں نے گوشت کی دکانیں بند کروانا شروع کردی ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔