نیویارک: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سلامتی کونسل نے گزشتہ روز سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کے دہشت گردہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔سلامتی کونسل نے حوثی باغیوں سے سختی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کریں۔
دو اپریل کو یمن میں مقابل حریفوں کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد کا آغاز ہوا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے اراکین نے اجلاس کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی یمنی شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے اور علاقائی استحکام میں بہتری لا سکتی ہے۔ اراکینِ سلامتی کونسل نے تعز روڈ کو دوبارہ کھولنے، ایندھن اور اشیا کی باقاعدہ ترسیل جیسے اقدامات کے ذریعے اعتماد سازی پر زور دیا تاہم یہ بھی کہا کہ اس تعاون کو محدود نہیں ہونا چاہیے۔
سلامتی کونسل نے تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ بندی کے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایک جامع اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ساتھ مل کر کام کریں۔ سلامتی کونسل نے یمن تنازع کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی سیاسی مشاورت کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا جبکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں یمنی فریقین کی زیر قیادت امن عمل کا اعادہ کیا اور اس میں خواتین کی کم از کم 30 فیصد شراکت کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔