شنگھائی (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کے سب سے بڑے اور تجارتی شہر شنگھائی میں مختلف مراحل میں لاک ڈاؤن جاری ہے،جس کے باعث ‘بین الاقوامی کمپنیاں شدید متاثرہوئی ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق ٹیسلا کی گیگا فیکٹری اور ڈزنی سمیت بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو شنگھائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لاک ڈاؤن نے شہرکی معیشت بھی ہل کر رہ گئی ہے۔ بہت کم نوٹس پر حکام نے شہر کے 2کروڑ 60لاکھ سے زیادہ رہایشیوں پر دوسرے مرحلے کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے شہریوں کو اینٹی جن کٹ کے ذریعے ازخود کورونا ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شنگھائی میں 24 گھنٹوں میں کورونا کے 7 ہزار 788 نئے کیس سامنے آئے جن میں سے 6 ہزار 501 میں کورونا کی کوئی علامت نہیں تھی۔ شنگھائی کا مشرقی حصہ حال ہی میں 4دن کی سخت پابندیوں سے گزرا ہے ،جب کہ مغربی حصے کو یکم اپریل سے 4روزہ لاک ڈاون کا اعلان کر کے بند کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شنگھائی مالیاتی صنعت کا بڑا مرکز ہونے کے ساتھ سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانکس اور کار سازی کا مرکز ہے اور کاروبار بند ہونے سے کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر خسارے کا سامنا ہے۔