اسلام آباد(نمائندہ جسارت) متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی بحال کرنے اورنئے الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کردیا۔اسلام آباد میں بلاول زرداری، خالد مقبول صدیقی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ کل عمران نیازی نے ملک میں سول مارشل لا نافذ کیا، عدالت نے کہا کہ کوئی ماورائے آئین کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے لیکن صدر اور وزیراعظم ماورائے آئین اقدام اٹھاچکے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک میں کسی قسم کا ردوبدل ممکن نہیں تھا، فواد چودھری نے ایوان میں کاغذ پڑھا اور پتا نہیں کیا الا بلا پڑھی اس کے بعد اسپیکر نے بھی لکھا ہوا کاغذ پڑھا، کل جو ڈپٹی اسپیکر نے بھاشن دیا ہے اس کے حساب سے تو ہم غداربن گئے۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی اور صدر نے کل آئین توڑا، یہ بات درست ہے کہ ایوان کی کارروائی کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا لیکن وہاں آئین کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں کیا اس کو کوئی تحفظ حاصل ہے؟اس موقع پر بلاول نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ ضیا اور مشرف کا مارشل لا نہیں روک سکی، عدلیہ سے امید اور درخواست ہے کہ عمران خان کے مارشل لا کو روکیں، ہماری درخواست ہے، عدلیہ سے کہتے ہیں آپ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی، عمران نے جو یہ کام کیا ہے آپ کا فیصلہ یہ فیصلہ سنائے گاکہ کیا ہمارا آئین ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے یا وہ اسلامی جمہوری وفاقی نظام کو جوڑنے والی دستاویز ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین کا دفاع کرتے رہیں گے لیکن جو کل ہوا ہے اعلیٰ عدلیہ سے درخواست ہے کہ اس آئینی بحران کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے، فل کورٹ بینچ اس کا فیصلہ سنائے، ہمیں اگر پھانسی چڑھانا ہے تو چڑھا دیں لیکن عدم اعتماد پر ووٹنگ کرادیں۔بلاول کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہم قومی اسمبلی میں آئین نافذ نہیں کرسکتے تو ملک میں بھی نہیں کرسکتے، ہم سب خوش ہیں عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی۔