چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین، روس۔یوکرین جنگ کو جغرافیائی مفادات کے حوالے سے نہیں دیکھ رہا، ہم امن چاہتے ہیں۔
چین وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے یوکرینی ہم منصب دمترو کولیبا کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی۔
مذاکرات میں وانگ نے یوکرین کے بارے میں چین کے موقف پر بات چیت میں کہا ہے کہ "چین جغرافیائی مفادات کی تاک میں نہیں ہے۔ ہم نہ تو خاموش تماشائی بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی جلتی پر تیل چھڑکنا چاہتے ہیں۔ یوکرین میں ہماری واحد خواہش امن ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "چین، روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ مذاکرات، خواہ کیسے ہی مشکل کیوں نہ ہوں اور اختلافات خواہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، فائر بندی اور قیام امن تک جاری رہنے چاہئیں”۔
وانگ نے سلامتی کے ناقابلِ تقسیم اصول سے وابستگی پر زور دیا اور کہا ہے کہ یورپی سلامتی کی ساخت کو مساوات کی بنیادوں پر اور ڈائیلاگ کے ذریعے قائم کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں چین تعمیری کردار ادا کرنا جاری رکھے گا۔
یوکرین کے وزیر کولیبا نے بھی انسانی امداد پر چین کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ یوکرین روس کے ساتھ مسئلے کے پائیدار حل تک رسائی کے حصول کا اور یورپ کی طرف کھُلنے والا دروازہ بننے کا خواہش مند ہے۔
کولیبا کے جواب میں وانگ نے بھی کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ یوکرین نے جو دروازہ کھولا ہے وہ یورپ میں امن کا، یوکرین کی ترقی کا اور چین اور یورپ کے درمیان باہمی تعاون کا وسیلہ بنے۔