ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آئیے انکی بھی آواز بنیں

تحریر: آفتاب مہمند

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے۔
اسلام میں رمضان المبارک کو تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے۔اسی مہینے کے فضائل وبرکات سے پوری امت مسلمہ بخوبی واقف ہے۔ رمضان المبارک کو لوٹ کا مہینہ بھی کہتے ہیں اس لئے ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ثواب کما لے، ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عبادات جیسے مکمل تراویح، تہجد، تلاوت اور تینوں عشروں کے ذکر اذکار بھی بخوبی سرانجام دے سکے تاکہ اللہ تعالی کو راضی کیا جائے۔

جہاں اس بابرکت مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادات کو ترجیح دی جاتی ہے تو وہیں ہر انسان کی کوشش رہتی ہے کہ ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کی خدمت بھی کی جائے چاہے وہ انفرادی طور پر ہو یا مجموعی طور پر۔ اس بابرکت مہینے میں جگہ جگہ دستر خوان لگائے جاتے ہیں، صاحب استطاعت لوگ خیرات زکوات و صدقات دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو حقدار لوگوں کے گھروں میں تیار کھانے بھجواتے ہیں۔ کئی صاحب استطاعت لوگ کپڑے یا نقدی کی صورت میں بھی غریب و نادار لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت کے اور بھی کئی طریقے و ذرائع ہیں جو نیکیاں حاصل کرنے کیلئے اسی ماہ میں خصوصی طور پر اپنائے جاتے ہیں۔

جہاں رمضان میں لوگوں کی اپنی طور پر خریداری کا تعلق ہے تو ہر سال اس بابرکت مہینے میں ہر طرح کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا و خود ساختہ اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ کئی تاجر دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کئی لوگ ذخیرہ اندوزی کرکے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھائے جاتے ہیں۔ ایسے میں پھر قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ان اشیاء کو خریدنا ایک عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو اتنا مقدس مہینہ بھی غربت و افلاس کے باعث تنگدستی میں گزارتے ہیں۔ اب ہر طرح کی قیمتیں کنٹرول کرنا یقینا حکومتی اداروں ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دیکھا جائے تو ہر سال ماہ رمضان میں حکومت کی جانب سے رمضان بازار و دیگر سستے بازار لگائے جاتے ہیں جہاں بہت سے لوگ مطمئن تو بعض لوگ غیر مطمئن بھی رہتے ہیں۔

ایسے میں کئی فلاحی تنظیمیں بھی ہیں جو سال بھر معاشرے کے کمزور طبقات نادار، یتیم، بیوائیں یعنی ہر طرح کے محروم طبقات کی خدمت میں مصروف عمل رہتے ہیں تو ان میں ایک تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن بھی ہے جنہوں نے رواں ماہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں 50 ہزار تک حقدار خاندانوں میں رمضان پیکجز تقسیم کیا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے صرف یہاں نہیں بلکہ پڑوسی ملک افغانستان کے مختلف حصوں میں بھی اس بابرکت مہینے میں 50 ہزار رمضان پیکجز تقسیم کئے۔ ساتھ ساتھ اسی فلاحی تنظیم کی زیر نگرانی رمضان میں “افطار ککڈ فوڈ” اور “سستی روٹی کی فراہمی” جیسے کار خیر کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ رواں ماہ اور بھی کئی فلاحی تنظیمیں اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جہاں تک پڑوسی ملک افغانستان میں بھی کار خیر و انسانی خدمت کا تعلق ہے تو یہ نہایت اچھی بات ہے جیسا کہ
اکتوبر 2021ء کے ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق وہاں 3 کروڑ 90 لاکھ کی آبادی کے ملک کی نصف آبادی 15 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ملک کی آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ وہ لوگ جو خطِ غربت سے اوپر کی زندگی گزار رہے ہیں انہیں بھی بنیادی شہری سہولیات میسر نہیں ہیں۔

اسی طرح ستمبر 2021ء کو ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے سیاسی اور معاشی بحران کو قابو نہ کیا گیا تو 97 فیصد افغان آبادی کا خطِ غربت سے نیچے جانے کا اندیشہ ہے۔ ڈی ڈبلیو کے نومبر 2021ء کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں زیادہ تر آبادی اتنی غریب ہو چکی ہے کہ وہ صاف پینے کے پانی اور کم خوراکی کا شکار ہے حالانکہ یہ بنیادی ضروریات ہیں۔

وہاں سے تو آجکل بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے خودکشیوں اور اسی طرح غربت کے باعث بیٹیوں کی خرید و فروخت کا بڑھتا ہوا رجحان جیسی تشویشناک خبریں بھی مل رہی ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح الخدمت نے وہاں خدمت کا ایک سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تو اور بھی ممالک، صاحب استطاعت لوگوں، فلاحی تنظیموں وغیرہ کو بھی بڑھ چڑھ کر اس کارخیر کا حصہ بننا چاہیئے تاکہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کی خدمت کیساتھ ساتھ بھرپور دعائیں بھی لی جائیں۔

لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن جس طرح ہمارے ملک میں مہنگائی، بےروزگاری، غربت، معیشت کی موجودہ صورتحال ہے. پچھلے سال انڈیپنڈنٹ اردو میں شائع ہونیوالے ایک مضمون کے مطابق سال 2020ء میں پاکستان میں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزرنے والے افراد کی تعداد 8 کروڑ 70 لاکھ کے قریب تھی یعنی اس وقت تک 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ہو سکتا ہے 2022ء میں اس تعداد میں کمی بیشی واقع ہوئی ہو۔ اسی طرح عالمی جریدے “دی اکانومسٹ” میں کچھ عرصہ قبل شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شمار ہونے لگا ہے۔

اب ایسے میں جہاں غربت کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے اور مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ کم لوگ اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
لہذا ہونا یہ چاہیئے کہ اس بابرکت مہینے میں ہر انسان اپنی بس کے مطابق حقداروں کی بھرپور آواز بن جائے۔ فرمایا گیا یے کہ رمضان المبارک میں جہاں اور اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے اسی طرح صدقہ و خیرات کا اجر و ثواب بھی بڑھ جاتا ہے۔حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔

اس مہینے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور واجب صدقات ادا کرنا تو انسان کے ذمے ہے، ان کے ساتھ کوشش کرنی چاہیے کہ نفلی صدقات کا اہتمام بھی کیا جائے۔ کسی نادار روزہ دار کو روزہ افطار کرانا، کسی محتاج کی مدد کرنا، کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا، یتیم اور بیواؤں کا خیال رکھنا یہ سب ایسی نیکیاں ہیں کہ یہ اس ماہِ مقدس میں ضرور کیا کریں تاکہ حقداروں کی ضروریات بھی پوری ہوں اور انکے دلوں کی آواز بن کر بھرپور دعائیں بھی لی جائیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں