سری لنکا میں صدرگوتابیا راجہ پکسا نے نئی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے۔
ہند وستان ٹائمز کے مطابق، اقتصادی بحران سے متاثرہ ملک کی اس نئی کابینہ میں سترہ ارکان شامل ہیں ۔
کابینہ میں صدر کے بھائی اور وزیراعظم مہندہ راجہ پکسا کے علاوہ اور کوئی رشتے دار موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ تین اپریل کو ملک گیر مظاہروں کے نتیجے میں چھبیس رکنی کابینہ مستعفی ہو گئی تھی۔
حزب اختلاف کی نمایاں جماعت قومی اتحاد محاذ کے ایک اعلی عہدےدار نے مطالبہ کیا تھا کہ سری لنکن عوام کی خواہش کے مطابق صدر گوتا بایا اور ان کے تمام رشتے دار اقتدار چھوڑ دیں۔
سری لنکا میں عوام صدر راجہ پکسا کے اقتدار پر قابض رہنے سے سخت نالاں ہیں۔
ملک میں عوام نے اقتصادی بحران کے پیش نظر مظاہروں میں حصہ لیتے ہوئے صدارتی محل کے قریب جمع ہونا شروع کر دیا تھا جس پر پولیس نے سخت مداخلت کی تھی۔
ان مظاہروں میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت عام شہری بھی زخمی ہوئے تھے جبکہ 54 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
ان مظاہروں کی بنا پر انتظامیہ نے کولمبو کے بعد مغربی علاقوں میں کرفیو بھی نافذ کر دیا تھا۔
دو کروڑ دس لاکھ آبادی کے حامل سری لنکا میں سن 1948 کے بعد سے اب تک کا یہ سنگین اقتصادی بحران بتایا جاتا ہے۔