روس کی جانب سے یوکرین کے اہم اسٹریٹجک شہر ماریوپول کے زیادہ تر حصے پرکنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
روسی وزیر دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے بتایا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 23367افراد ہلاک ہو چکے ہیں،جبکہ ماریوپول شہر سے یوکرینی فوجیوں اوراجرتی جنگجووں سے پاک کر دیا گیا ہے۔
خبر کے مطابق ماسکو نے ماریوپول میں یوکرینی افواج کو ہتھیار ڈالنے کے لیے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماریوپول میں آج ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی اہلکاروں کو معاف کر دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق کیف کی جانب سے روسی پیشکش پر ابھی کوئی ردعمل نہیں دیا گیا تاہم کیف کے شمالی اور لیوف کے مغربی حصے میں آج صبح دھماکے سنے گئے ہیں۔
یوکرین کے صدردلودومیر زیلینسکی نے ماریوپول کی صورتحال کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے مغرب سے فوری طور پر بھاری ہتھیار فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ماریوپول کےگورنر نے دعویٰ کیا تھا کہ ماریوپول صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے، ہم مزاحمت کر رہے ہیں لیکن شہر روس کے قبضے میں جا سکتا ہے۔