روسی افواج نے یوکرین پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
کییف میں حکام کے مطابق، کئی دنوں تک خود کو دوبارہ منظم کرنے کے بعد روسی فوج نے یوکرین کے صنعتی مرکز دونباس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر زمینی حملے شروع کر دیے ہیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس یوکرین کے صنعتی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین روسی فوجی حملوں کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ہم روس سے 10 سال تک لڑ سکتے ہیں جبکہ ہ روسی دھمکیوں پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اپنا علاقہ روس کو نہیں دے سکتے، فتح ہماری ہی ہو گی۔
دوسری جانب یوکرین کے مشرقی علاقوں میں جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔
کیف میں اعلیٰ ترین حفاظتی اہلکار اولیکسی دانیلوف کے مطابق، روسی افواج تیزی سے مشرقی یوکرینی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روسی دستے اب کریمِنا اور ایک اور چھوٹے سے قصبے میں داخل ہو چکے ہیں۔
قبل ازیں یوکرینی مسلح افواج کی قیادت نے بتایا تھا کہ روس دونیسک اور لوہانسک کے علاقوں پر مکمل فوجی قبضے کی کوشش میں ہے اور ماسکو کے دستوں کا مقابلہ کرتے ہوئے یوکرینی فوج نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔