اسلام آباد(آن لائن)تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اجلاس کی صدارت کی۔مینارپاکستان میں منعقد ہونے والے( آج) جمعرات کے اجتماعِ عام کی تیاریوں کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال خصوصاً حکومت کی تشکیل و ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تحریک انصاف نے بڑی تعداد میں ملزموں کی وفاقی کابینہ میں شمولیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ غیر یقینی کی صورتحال اور امپورٹڈ حکومت کے ملکی معیشت پر تباہ کن اثرات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔تحریک انصاف نے ملک میں بلاتاخیر عام انتخابات کے انعقاد کے اعلان کا مطالبہ کیا۔عمران خان نے کہا کہ غیرفطری امپورٹڈ حکومت سے حالات نہیں سنبھل رہے۔ انہوں نے کہا کہ انواع و اقسام کے جرائم میں ملوث ملزمان کو وفاقی کابینہ میں بھرتی کرکے جمہوریت کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے،پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین دور اور مقام پر کھڑا ہے، قوم قیادت سے آگے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ قوم اس وقت بیرونی سازش اور خودمختاری پر کیے جانے والے حملے پر نگاہیں جمائے بیٹھی ہے، اپنے لوگوں کو جانتا ہوں، قوم آزادی و خودمختاری پر رتی بھر سمجھوتے کو تیار نہیں،جب بھی کسی ملک پر فیصلہ کن وقت آتا ہے، قوم قیادت کی جانب دیکھتی ہے، مستقبل کے فیصلے سے عوام کو محروم رکھنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ غیرفطری امپورٹڈ حکومتیں کھڑی کرنے سے نہیں، شفاف انتخاب کے ذریعے عوام کو مستقبل کے فیصلے کا حق دینے سے پاکستان آگے جائے گا، انتظامیہ رکاوٹیں پیدا کرنے کی حماقت سے گریز کرے، عوام کے سمندر کو قید کرنا ممکن نہیں۔عمران خان نے کہا کہ مینارپاکستان کا اجتماع ایک تاریخ رقم کرے گا۔ علاوہ ازیں عمران خان کا کہنا ہے کہ کبھی بھی فوج کے خلاف بات نہ کریں،اس ملک کو عمران خان سے زیادہ فوج کی ضرورت ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان سوشل میڈیا پر بذریعہ ویڈیو کال کارکنوں اور عوام سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس دوران عمران خان کی جانب سے اپنے پیغام میں کہا گیا کہ کبھی بھی فوج کے خلاف بات نہ کریں،اس ملک کو عمران خان سے زیادہ فوج کی ضرورت ہے، یہ فوج نہ ہوتی تو اس ملک کے تین ٹکڑے ہوچکے ہوتے، فوج کی کی مضبوطی کے لیے بات کرنی چاہیے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج کے ادارے کے خلاف کبھی بات نہ کریں، ہمیشہ اس کی مضبوطی کے لیے بات کرنی چاہیے۔ ہماری فوج نہ ہوتی تو ہمارے ملک کے تین ٹکڑے ہوئے ہوتے۔عمران خان کا ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار میں ایک بھی ٹکٹ بغیر جانچ کے نہیں دوں گا، اس مرتبہ نظریے پر ٹکٹ دی جائے گی۔اسپیس کے دوران عمران خان سے سوال کیا گیا کہ اگر سابق وزیرِ اعظم نواز شریف واپس آ گئے تو آپ کا کیا لائحہ عمل ہو گا۔ عمران خان نے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر نواز شریف واپس آتا ہے اور اس بار اسے این آر او ٹو مل جاتا ہے تو یاد رکھیں کہ یہ پاکستان کا سارا انصاف کا سسٹم ڈس کریڈٹ کر دے گا۔انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ طاقتور ہیں تو جو مرضی کریں۔عمران خان نے فارن فنڈنگ سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی کے مخالف ہیں۔ یہ کیس فارن فنڈنگ کا نہیں ہے، یہ باہر سے پاکستانیوں کا بھیجا ہوا پیسہ ہے، اس طرح تو پورا پاکستان ہی فارن فنڈنگ پر چل رہا ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے دیگر جماعتوں کو بھی کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے، صرف پی ٹی آئی کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سابق وزیراعظم عمران نے کہا کہ ہم نے بڑے مشکل اپنے ساڑھے تین سال گزارے ہیں۔ ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی۔ اتحادی تھے۔ ہمیں سارا وقت بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس طرح بڑی مشکل سے یہ حکومت چلی ہے۔عوام سے کہوںگا کہ ہمیں اگلی بار واضح اکثریت سے لے کر آئیں تاکہ ہم ان سے بلیک میل نہ ہوں۔ آخری دفعہ ہم نے غلط ٹکٹس دیے تھے۔ اس دفعہ وقت ہے اور ہم سوچ سمجھ کر ٹکٹ دیں گے۔