شمالی عراق میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے خلاف پنجہ کلید آپریشن میں غیر فعال دہشت گردوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے۔
وزیر قومی دفاع حلوصی آقار نے دارالحکومت انقرہ میں پنجہ کلید کے بارے میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن میں اب تک 30 دہشت گردوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم اس عمل کو شفاف طریقے سے شیئر کر رہے ہیں۔ اتوار کی شام سے (آپریشن) کامیابی سے جاری ہے۔ اہداف کو نشانہ بناتے ہوئَ تباہ کردہا گیا ہے جبکہ غاروں، بنکروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران دو ترک شہید ہوئے ہیں ۔ ترک فوجی محاذ پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، ہم ان کے مشکور ہیں۔ دہشت گرد کہیں بھِ رپوش ہو جائیں وہ ترک فوجیوں سے نہیں بچ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اپنی قوم کو دہشت گردی کی لعنت سے بچانا ہے۔
وزارت قومی دفاع نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ بھی اعلان کیا کہ 200 اور 300 میٹر کی لمبائی والی دو الگ الگ غاروں (دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے) میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا، جن کا سراغ آپریشن میں لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں ترکی میں کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی حد تک اپنی سرحدوں پر دراندازی اور فرار ہونے کے عمل کو روکا ہے۔ جلد یا بدیر، ہم دہشت گرد تنظیم کے سر کو کچل دیں گے جو شام کے ایک حصے میں پنپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جلد ہی، جب قندیل (PKK کیمپ) جیسی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ عراق میں) ان کے وجود کی وجہ بھی ختم ہو جائے گی۔