ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جامعہ کراچی دھماکا: پاکستان میں پہلی مرتبہ خاتون کا "فدائی” حملہ، نام شاری بلوچ بتایا جا رہا ہے

کراچی یونیورسٹی حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔ بی ایل اے کے مطابق یہ کسی خاتون کا پہلا "فدائی” حملہ تھا۔ خاتون کا نام شاری بلوچ بتایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ جامعہ کراچی کے اندر ایک خاتون نے خود کش دھماکے کے ذریعے چینی باشندوں کی وین کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک  اور 3  زخمی ہوگئے۔ دھماکا جامعہ کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے پاس وین کے قریب آتے ہی ہوا۔ وین کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کی ہی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ٹیلی فون کیا، اور جامعہ کراچی دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انہیں جامعہ کراچی میں دھماکے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مراد علی شاہ کے مطابق جامعہ کراچی دھماکے میں غیرملکیوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ دھماکا ڈھائی بجے جامعہ کراچی میں وین میں ہوا، دھماکا کامرس ڈپارٹمنٹ کے قریب ہوا۔

عینی شاہرین کا کہنا ہے کہ ہم موقع پر موجود تھے، دھماکے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی، جس کا دروازہ توڑ کر چینی باشندوں کو نکالنے کی کوشش کی تاہم آگ زیادہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکے۔

کراچی یونیورسٹی کے سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر زبیر کا کہنا ہے کہ دھماکا چینی باشندوں کو لے کر آنیوالی وین میں ہوا۔ یونیورسٹی حکام کے مطابق تین زخمیوں کو پٹیل اسپتال منتقل کیا گیا جن میں ایک رینجرز، ایک سیکیورٹی اہلکار اور ایک چینی باشندہ شامل ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں