لاہور (نمائندہ جسارت) اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ کون کہتا ہے کہ پنجاب میں آئینی بحران ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کا الیکشن تو ہوا ہی نہیں، تمام اداروں کا اپنا کام ہے، عدلیہ کو اپنا ہی کام کرنا چاہیے، عدلیہ ایوان کی کارروائی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکتی، یہ بات سپریم کورٹ بھی کہہ چکی ہے،پنجاب اسمبلی میں حملہ شہباز اور حمزہ نے کرایا، شریفوں نے اپنی ذات کی خاطر اراکین کی عزت زمین بوس کر دی۔اسپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس16مئی تک ملتوی کردیا، گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کیخلاف عدم اعتماد پیش ہونا تھی۔ پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ اجلاس کب بلانا ہے یہ میرا اختیارہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر پرویز الٰہی نے سابق صوبائی وزیر راجا بشارت اور مراد راس کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کون کہتا ہے کہ آئینی بحران ہے یا صوبے میں وزیرِ اعلیٰ نہیں، یہ الیکشن ہوا ہی نہیں، جب تک نیا وزیرِ اعلی حلف نہیں لیتا، پرانا وزیر اعلیٰ برقرار رہتا ہے، سردار عثمان بزدار آج بھی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں، ان کے اختیارات بحال ہیں، قانون سازی بھی عدالتوں نے کرنی ہے تو پھر اِدھر آ جائیں۔ انہوںنے کہاکہ خاتون رکن اسمبلی آسیہ امجد آج بھی وینٹی لیٹر پر ہیں، اس کے ذمے دار شہباز شریف، حمزہ، آئی جی اور ڈپٹی اسپیکر ہیں، شہباز شریف نے آئی جی کو کہا جس پر اسمبلی میں پولیس آئی، سارا الیکشن ہائوس کے اندر ہوتا ہے، ڈپٹی اسپیکر نے وزیٹر گیلری میں کھڑے ہو کر الیکشن کرایا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ہوا ہی نہیں حمزہ کے خلاف ووٹ ڈالنے کی جگہ پولیس تعینات تھی، پوری اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا ہے، جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا ذمے دار کون ہے؟۔ الیکشن کرانے کا آرڈر عدالت کا تھا، جسے ہم سب نے مانا، پولیس نے سارا معاملہ خراب کیا۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ کے کہنے پر حملہ ہوا، ڈپٹی اسپیکر بھاگ کر وزیٹر گیلری میں چلے گئے، وزیٹر گیلری سے الیکشن کرایا گیا، آج بھی ڈیڑھ سو لوگ سفید کپڑوں میں اسمبلی میں کیوں بیٹھے ہیں، ہم ان کی تصاویر بنا رہے ہیں، پتا چلے گا کہ کس کس تھانے کے لوگ بیٹھے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ شریفوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا، گلیوں میں پھرتے رہتے تھے، آئی جی کو میں نے بلایا، اسمبلی میں معافی منگوائی، شریفوں کا چہرہ سامنے آ گیا ہے، 18 ویں ترمیم کا چرچا کرتے ہیں، کہاں ہے 18 ویں ترمیم؟۔ شریفوں نے اپنی ذات کی خاطر اراکین کی عزت زمین بوس کر دی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے 5ہزار ملازمین گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ فیصلہ کر دے کہ صوبہ کس نے چلانا ہے، پولیس نے چلانا ہے یا ہم نے؟، عنایت اللہ لک کا کیا قصور ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا، سیکرٹری اسمبلی کا کیا قصور ہے کہ ان کی گرفتاری کے آرڈر نکالے گئے؟، منحرف ارکان کی مئی میں واپسی ہو جائے گی۔اس موقع پر سابق وزیرِ قانون پنجاب راجا بشارت نے کہا کہ غیر آئینی اور غیر منتخب وزیرِ اعلیٰ چاہتا ہے کہ اقتدار اسے دے دیا جائے، ہم نے ووٹ کو عزت دی لیکن آج دیکھیں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے 26 منحرف ارکان نکال لیے جائیں تو ان کی اکثریت ختم ہو جائے گی، یہ چاہتے ہیں کہ لوٹوں کے ووٹ سے منتخب ہو جائیں، اسمبلی کی تحلیل کا آپشن قطعی موجود نہیں۔ مزید برآںاسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے جمعرات کے روز ہونے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 مئی تک ملتوی کردیا۔جمعرات کے روز اسمبلی اجلاس میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی میر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پرپیش ہونا تھی اور اس پر خفیہ ووٹنگ ہونا تھی۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے 40ویں اجلاس کی اگلی نشست 16مئی 2022کو دن 11:30پر منعقد ہو گی اور اسپیکر آفس کی جانب سے اجلاس 16مئی تک ملتوی کیے جانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ اسپیکر نے فوری طور پر اجلاس ملتوی کیے جانے کی وجہ نہیں بتائی ہے تاہم کہا جارہا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے یہ اجلاس امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ملتوی کیا ہے۔اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پرویز الہی کاکہنا تھا کہ یہ میرا اختیار اور صوابدید ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جائے۔ واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمعرات کو پیش کی جانی تھی۔