اس بات کا تعین ہوا ہے کہ موبائل فون اور وائرلیس کنکشن وائی فائی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی تابکاری الزائمر کے کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر پروفیسر ڈاکٹر مارٹن ایل پال نے جریدے "کرنٹ الزائمر ریسرچ” میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ انہیں سیل فونز اور اسی طرح کی وائرلیس ٹیکنالوجی کی مصنوعات کے درمیان آغازِ الزائمر کے حوالے سے ایک نیا ربط ملا ہے۔
پال نے کہا کہ تابکاری کے اثرات دماغ میں انٹرا سیلولر کیلشیم کی سطح میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جو الزائمر کو متحرک کر سکتا ہے، جس سے "الزائمر کی بیماری جیسا ڈراؤنا خواب بہت کم عمری میں ہی وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔”
محققین نے خبردار کیا ہے کہ جو نوجوان ہر روز کئی گھنٹوں تک مسلسل سیل فون اور وائی فائی کی تابکاری کے سامنے رہتے ہیں انہیں ’ڈیجیٹل ڈیمنشیا‘ کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تحقیقی ادارے نے یہ معلومات بھی شیئر کی ہیں کہ تابکاری سے متاثر ہونے والے ملازمین کو الزائمر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔