کیا آپ کو معلوم ہے کہ جنگ عظیم اوّل میں تاریخ کے خونی ترین محاربوں کے مقامات میں سے ایک یعنی گیلی بولو جزیرہ نما میں ایک ملّی پارک پایا جاتا ہے؟
گیلی بولو جزیرہ نما کے جنوب میں 33 ہزار ہیکٹر اراضی پر مشتمل یہ ملّی پارک اپنے قدرتی حسن کے ساتھ تارِیخی ماضی کی نمائندگی کرتا ہے اور جنگِ چناق قلعے کے شہداء کی یاد گار پر مشتمل ہے۔ آبنائے چناق قلعے کے یورپی حصے میں 1973 میں قائم کیا گیا یہ ملّی پارک اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ زیرِ تحفظ علاقہ ہے۔
پارک میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور فرانس کے فوجیوں کی 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد اور ترک فوجیوں کی 60 ہزار سے زائد قبریں اور یادگاریں ہیں۔ پارک میں ” تاریخی آرکیالوجک ایریا” اور "ثقافتی اثاثے” کی حیثیت سے رجسٹر شدہ محاربے والے حصوں، قبروں اور یادگاروں کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں، توپوں، مورچوں، قلعوں اور برجوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پارک میں 4000 قبل مسیح سے متعلق آثار پر مشتمل ایک آرکیالوجک حصہ بھی موجود ہے۔
پارک میں ،تارِیخی و معنوی اعتبار سے نہایت اہم مقام یعنی ،’چناق قلعے یادگارِ شہداء ‘ آبنائے چناق قلعے کے کنارے پر واقع ہے۔ 1915 کی جنگ چناق قلعے کےترک شہداء کی یاد میں تعمیر کی گئی یہ پُر احتشام یادگار چار ستونوں کے اوپر ایک گنبد کی شکل میں ہے۔ یاد گار کی بلندی 41،7 میٹر ہے۔ یادگار کی تعمیر 1954 میں شروع ہوئی اور 21 اگست 1960 کو اسے زائرین کے لئے کھول دیا گیا۔