ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سیف سٹی پروجیکٹ میں مزیدتاخیربرداشت نہیں کرسکتے۔وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلی سندھ کا کہنا ہے کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ میں مزید تاخیر برداشت نہیں۔ اگلے چار ماہ میں منصوبے کی منظوری، ٹینڈر اور کام شروع کیا جائے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت سیف سٹی پروجیکٹ پر اہم اجلاس ہوا۔شرکا کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ دوہزار سولہ میں بنا۔جس کے تحت شہر میں دس ہزار کیمرے لگنے ہیں۔وزیراعلی نے کہا ہم نے دوہزار بیس میں سیف سٹی اتھارٹی قائم کی تھی۔ اس حساب سے منصوبے پر کام شروع ہونا چاہیے۔ اگلےچار ماہ میں منصوبے کی منظوری، ٹینڈر اور کام شروع ہونا چاہیے۔ وزیراعلی کا کہنا تھا اس پروجیکٹ میں بہت تاخیر ہو چکی ہے۔یہ اہم پروجیکٹ ہے، میں اس میں مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتے۔منصوبے کے تحت دوہزار مقامات پر دس ہزار کیمرے سولر پاور اور بجلی کے بیک اپ پر لگائے جائے گے۔وزیر اعلی کو بتایا گیا کہ فائبر آپٹک بچھانے کےلئے پورا شہر کھودنا ہوگا،، جس کے لئے بہت ساری ایجنسیز سے اجازت لینا ہوگی۔ وزیراعلی نے کہا پی ٹی سی ایل اور کچھ اور دیگر اداروں سے بات کریں۔اگر کسی نے فائبر آپٹک بچھائی ہوئی ہے۔تو اس کو حاصل کریں۔ سیف سٹی کے تحت 5 پی ایم کے 36 ایکس زوم کیمرے پولز کے ساتھ لگائیں۔فائبر کنیکٹوٹی ہوگی تو ایک اسٹیٹ آف آرٹ کنٹرول قائم ہوگا۔ وزیراعلی نے کہاکہ ریڈ زون شہرکے داخلی اور خارجی راستوں سے کام شروع ہواور پورا شہر کور ہوگا۔شرکا کو بتایا گیا کہ پروجیکٹ پر عملدرآمد کا این آر ٹی سی کے ساتھ ایم او یو سائن ہوچکا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پی اینڈ ڈی کو پی سی ون پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت شہر میں دو ہزار کیمرے کام کررہے ہیں۔ وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ موجودہ سسٹم کو بھی اپ گریڈ کرتے جائیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں