ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آرہے ہیں،نمبرز بلاک کردیئے ،عمران خان

مردان : چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان جلسے سے خطاب کررہے ہیں

بنی گالہ /مردان(خبر ایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آرہے ہیں، بات نہیں کررہا، ان لوگوں کے نمبرز بلاک کر دیے، جب تک الیکشن کااعلان نہیں ہوتا،تب تک کسی سے بات نہیں ہو گی۔شہباز شریف کے علاوہ بھی کردار میر جعفر اور میر صادق ہیں، وقت آنے پر ان کرداروں کے نام لوں گا۔جن لوگوں کو لایا گیا، اس سے بہتر تھا پاکستان پرایٹم بم گرا دیتے، فارورڈ بلاک بنانے والے لیگی ایم پی ایز کو طاقتور حلقوں نے پیغام دیا جہاں ہیں، وہیں رہیں۔مقتدر حلقے چاہتے تھے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹاؤں۔ سازش کرنے والوں نے غلط اندازہ لگایا، انھیں نہیں پتا تھا مجھے ہٹانے پر اتنے عوام سڑکوں پرنکل آئیں گے۔عمران خان کا کہنا تھاکہ میں سمجھتا تھا کرپشن بااثر شخصیات کے لیے بھی ایشو ہے، اس پر ہمارا نظریہ ایک ہے لیکن کرپشن اہم شخصیات کے لیے مسئلہ ہی نہیں تھا، میں صدمے میں ہوں کہ یہ لوگ چوروں کو اقتدار میں لائے، مجھے بارہا کہا گیا آپ کرپشن کیسز کے پیچھے نہ پڑیں، مجھے کہا جاتا تھا کہ کارکردگی پر توجہ دیں۔اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے حوالے سے سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ آخری دن تک اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اچھے رہے، 2 معاملات پر اس سے عدم اتفاق رہا، مقتدر حلقے چاہتے تھے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹاؤں، عثمان بزدار کی جگہ کسی اور کو لگاتا تو پارٹی میں دھڑے بندی ہو جاتی۔ اسٹیبلشمنٹ سے دوسرا ایشو جنرل فیض کے معاملے پر تھا، میں چاہتا تھا کہ جنرل فیض سردیوں تک ڈی جی آئی ایس آئی رہیں، انہیں برقرار رکھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال تھی۔ جنرل فیض کو داخلی سیاسی صورتحال کے لیے بھی برقرار رکھنا چاہتا تھا، مجھے اپوزیشن کی سازش کا جون سے پتا تھا، ہمیشہ ایسے فیصلے ہوتے رہے کہ میری حکومت کمزور رہے۔اسلام آباد مارچ سے متعلق ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد مارچ کے لیے تیاری شروع کر دی ہے، جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو بہت سے آپشن کھل جاتے ہیں۔قبل ازیں مردان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات کی تاریخ نہیں دی تو اسلام آباد آنے والا سمندر سب کو بہا لے جائے گا، عوام فیصلہ کریں کہ پاکستان کی قیادت کون کرے گا۔ لندن میں بیٹھا چوروں کا ٹولہ سن لے ملکی مستقبل کے فیصلے عوام کریں گے، امپورٹڈ حکومت پالیسی دینے میں ناکام ہوگئی ، ڈالر 193روپے اور اسٹاک مارکیٹ کی مندی امپورٹڈ حکومت پر عدم اعتماد کی علامتیں ہیں ، نیوٹرلز کو خبر دار کیا تھا کہ سازش کامیاب ہوئی تو معیشت ڈوب جائے گی۔ عمران خان نے زور دیا کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں شرکت کے لیے آپ کو آنا ہوگا، میں سیاست کے لیے نہیں بلکہ انقلاب کے لیے بلارہا ہوں، جو بھی 70 سال سے کم عمر ہے وہ نوجوان ہے، جب اسلام آباد آنا ہے تو خوف کی زنجیریں توڑ کر آنا۔سابق وزیر اعظم نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور آصف زرداری امریکا کے غلام ہیں اور نواز شریف سے زیادہ بزدل آدمی زندگی میں نہیں دیکھا، جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کو مولانا نہیں کہوں گا کیونکہ مذہبی علما کی بہت عزت کرتا ہوں، فضل الرحمن نے حکومت میں آکر این ایچ اے کی وزارت حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ لو نے ہمارے سفیر کو کہا کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا تو پاکستان کومعاف کردیں گے، کیا ہم امریکیوں کے غلام ہیں، ہم ان کے نوکر ہیں؟ ہم ان کے نوکر اور غلام نہیں ہیں، ملک کی قیادت کون کرے گا فیصلہ کوئی مفرور نہیں بلکہ عوام کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ میرے لیے سب سے شرمندگی کی بات یہ تھی کہ میں نے بیرون ملک جاکر چین، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے قرضے مانگے، جو قوم قرضے مانگتی ہے اْس کی کوئی عزت نہیں ہوتی، مجھے معلوم ہے کس کس نے سازش کی۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اور اس مہم میں کس کس میڈیا ہاؤس کو پیسا دیا گیا اس بارے میں ساری معلومات ہیں، اب میڈیا کے نمائندے عوام سے مہنگائی سے متعلق سوال کیوں نہیں کرتے جیسا کہ وہ ہماری حکومت کے دوران کرتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اس سازش کی کھلی تحقیقات کرائیں، سازش کرنے والے ایک میر جعفر کی شکل میرے دل پر نقش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول امریکا جا کر پیسے مانگے گا کہ ہماری مدد کر دیں ورنہ عمران خان واپس آجائے گا۔عمران خان نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انتخابات صاف و شفاف نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن کو تمام لوٹوں کے بارے میں علم ہے، یہ قانونی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی مسئلہ ہے، اگر الیکشن کمیشن نے لوٹوں کو بچایا تو عوام انہیں بھی معاف نہیں کرے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں