فیصل آباد:جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماں بٹ نے کہا ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کا نظام ہی آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔جماعت اسلامی ملک میں اسلامی انقلاب کیلئے کوشاں ہے اور ساری جدوجہد کا مقصد عام آدمی کے حقوق کا تحفظ ہے ۔
عوام نے سابقہ اور موجودہ حکمرانوںسے جو توقعات اور امیدیں وابستہ کی تھیں وہ مایوسی میں بدل گئی ہیں۔ خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات ملک میں حالات کی سنگینی اور حکمرانوں سے ناامیدی اور مایوسی کے آئینہ دار ہیں ۔جماعت اسلامی ظلم و جبر اور استحصال کے اس نظام کو بدلنا چاہتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی چنیوٹ بازار میں تفہیم منصوبہ ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ورکشاپ سے معروف سکالرپروفیسرڈاکٹراشتیاق احمدگوندل،پروفیسرڈاکٹراعجازفاروق اکرم،لیاقت علی گل اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک و قوم کو بحرانوں سے نکال کر ایک نئے عزم کے ساتھ قومی وقار کو بحال کرنے اور ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنا چاہتی ہے،
پاکستان گھمبیر مسائل سے دوچار ہے، ملکی مسائل کے حل، ترقی، امن اور خوشحالی کے لئے سیاسی بیداری اور دیانت دار قیادت ضروری ہے، ملک میں قیادت کا ایک خلا پیدا ہوچکا ہے جسے صرف جماعت اسلامی پر کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکن اقتدار کے ایوانوں میں رہے
مگر کسی کے دامن پر بددیانتی ،کرپشن اور اقرباء پروری کا کوئی داغ نہیں، جماعت اسلامی نے اپنے کردار اور عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہی اس ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعوے داروںنے عوام کو خود کشیوں پر مجبور کردیا ہے، لوگوں کے چہروں پر مایوسی اور اضطراب ہے ۔
مہنگائی اوربے روز گاری نے عوام سے راتوں کی نیند چھین لی ہے،جب تک عام آدمی کو اس کے حقوق نہیں ملیں گے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور بدامنی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ۔عوام کو تعلیم صحت اور روزگار کے مواقع ملیں توآئین شکنی خود بخود ختم ہوجائے گی ۔