اسلام آباد(اے پی پی،آن لائن،صباح نیوز) بجلی کی مجموعی پیداوار 22 ہزار 248 میگاواٹ ہے اور بجلی کی طلب 26 ہزار 500 میگاواٹ سے زائد۔ ملک میں بجلی کے شارٹ فال میں ایک بار پھر کمی آئی ہے اور شارٹ فال 4 ہزار 252 میگاواٹ رہ گیا ہے۔جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں8 سے 10 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے بعض علاقوں میں لوڈشیڈنگ کادورانیہ 16گھنٹے پر محیط ہوگیاہے۔اطلاعات کے مطابق ملک بھرمیں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر اراکین قومی اسمبلی نے ایوان میںاحتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسکوز کے بورڈ آف گورنر میں مقامی لوگوں کو شامل کیا جائے، کراچی الیکٹرک کے مقابلہ میں چین سمیت دیگر نجی کمپنیوں کو لایا جائے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسامہ قادری نے کہا کہ اس وقت کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عروج پر ہے، کراچی الیکٹرک کے دفاتر کے باہر ہر جگہ احتجاج ہو رہے ہیں۔ کراچی میں ریکوری سب سے زیادہ ہے۔ کے الیکٹرک کو پرائیویٹ ادارے کے طور پر ہمارے سروں پر مسلط کردیا گیا ہے۔ نیشنل گرڈ سے کراچی الیکٹرک کو 650 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے، سولہ سولہ گھنٹے وہاں لوڈشیڈنگ ہے۔ اس ادارے کی اجارہ داری صرف مسابقت سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔ سولر انرجی پر سبسڈی دی جائے۔ کراچی میں صنعتیں بند ہیں، گھروں میں بجلی اور گیس نہیں ہے۔ اگر اس پر توجہ نہیں دی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر غوث بخش مہر،پیپلز پارٹی کے کراچی سے رکن عبدالقادر مندوخیل،جے یو آئی (ف) کے رکن صلاح الدین ایوبی، اپوزیشن رکن رانا محمد قاسم نون نے بھی احتجاجی بیانات ریکارڈ کروائے۔