ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اگر فیصلے نہیں لے سکتے، سیاسی قیمت ادا نہیں کر سکتے تو حکومت چھوڑ دینی چاہیے: شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس دو ہی راستے بچے ہیں، حکومت چھوڑ کر عوام میں چلے جائیں یا اقتدار میں رہ کر مشکل فیصلے کریں۔ ان حالات ميں ملک کو نگراں سیٹ اپ کے حوالے نہيں کيا جا سکتا۔

سماء ٹی وی کے پروگرام ”نديم ملک لائيو” ميں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ممبران قانونی طور پر رکن اسمبلی ہیں۔ تحریک انصاف کے اراکین اپنے استعفے واپس لينا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔ میں اس حق ميں ہوں کہ صدر مملکت اور گورنر رہيں اور آئينی ذمہ داری پوری کريں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آرمی چيف کی تقرری نومبرميں ہی ہونی چاہيے، فوج اور حکومت کو ايک پيج پر ہونا چاہيے اور ہم ايک پيج پرہيں، حکومت کو ہر ادارے کی سپورٹ ہو تو کارنرٹرن کرسکتے ہيں، ملک کيلئے ايک پيج ہو تو معاملات حل ہوسکتے ہيں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قيمت ميں 47 روپے اضافے کی ضرورت ہے مگر موٹر سائیکل والوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینی چاہیے۔ اگر فیصلے نہیں لے سکتے، سیاسی قیمت ادا نہیں کر سکتے تو حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم کڑے امتحان سے گزر رہے ہيں، ملکی معيشت کيلئے مشکل فيصلے کرنے ہونگے، پیٹرولیم مصنوعات کی قيمتيں بڑھانا ہوںگی ليکن کوشش کی جائے عوام پر بوجھ نہ پڑے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحاد کا فیصلہ ہے کہ مدت پوری کرنی چاہیے، ان حالات ميں ملک کو نگراں سیٹ اپ کے حوالے نہيں کيا جا سکتا۔ مشکل فیصلے کرنے ہیں تو سب کو ایک پیچ پر آنا ہو گا، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں