ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر و تبادلے روک دیے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہائی پروفائل مقدمات میں پراسیکیوشن برانچ میں تاحکمِ ثانی ٹرانسفر پوسٹنگ نہ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اعلیٰ عدالت نے قومی احتساب بیورو ( نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو بھی تا حکمِ ثانی کوئی بھی مقدمہ عدالتی فورم سے واپس لینے سے روک دیا ہے۔

پاکستان کے تفتیشی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کو از خود نوٹس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں از خود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تو اس موقع پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اسے استفسار کیا کہ بتایا جائے شہباز شریف، حمزہ شہباز کے کیسز میں افسران کے تبادلے کس بنیاد پر کیے گئے؟ ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پالیسی میں رد و بدل سے متعلق بھی جاننا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ کوئی رائے نہیں دے رہے صرف حقائق جاننا چاہتے ہیں۔

عدالت نے چیئرمین نیب، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرز سے تحریری جواب بھی طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کیسز میں تفتیشی افسران کے تقرر و تبادلے کس بنیاد پر ہوئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک ساتھی جج جسٹس مظاہر علی نقوی کے خط پر بدھ کو اس معاملے پر از خود نوٹس لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق شکایت کنندہ فاضل جج نے تفتیشی افسران کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور ان کا تبادلہ کرنے کی نشاندہی کی تھی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس میاں مظہر عالم اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل ہیں۔

حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اعلیٰ عدالت کے نوٹس پر تبصرہ کیا ہے کہ ”غیر ضروری عدالتی پھرتیاں جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔”

سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا خیرمقدم کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری ماضی میں بھی اپنے خلاف مقدمات کی تحقیقات کے لیے اپنی مرضی کی تفتیشی ٹیمیں لگاتے رہے اور اہم افسران کے تبادلے کرتے رہے۔

فواد چوہدری کا مقامی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی ‘سے بات کرتے ہوئےکہنا تھا کہ خوشی ہے کہ چیف جسٹس نے حقیقی قدم اٹھایا ہے جس سے پاکستان میں بڑے لوگوں کے خلاف مقدمات سے وہ نہیں بچ سکیں گے۔

یاد رہے کہ جسٹس مظاہر علی نقوی کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز افراد مبینہ طور پر فوجداری معاملات میں مداخلت کر سکتے ہیں جس سے پراسیکیوشن کے معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا تھا کہ عدالتوں میں زیرِ سماعت کیسز میں ثبوتوں میں رد و بدل اور شہادتیں غائب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

جسٹس مظاہر علی نقوی کے مذکورہ خدشات پر چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے لیے جانے والے از خود نوٹس پر مریم نواز نے اپنے ایک ٹوئٹ میں تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری جوڈیشل ایکٹوازم جمہوریت کے لیے ایک واضح خطرہ ہے۔

کورٹ رپورٹر عبدالقیوم صدیقی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ”پاناما تھری شروع ہوا چاہتا ہے، براہِ کرم سواریاں سیٹ بیلٹ باندھ لیں۔”

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما اسکینڈل پر بھی از خود نوٹس لیا تھا اور جسٹس اعجاز الاحسن پاناما لیکس کے حوالے سے بنائے گئے ریفرنس سے متعلق احتساب عدالتوں میں زیرِ سماعت کیسز کے لیے نگراں جج تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں