ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ جمہوریت کی مضبوطی کی جانب بڑا قدم ہے،سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق مظفر آباد آزاد کشمیر میں عید ملن تقریب سے خطاب کررہے ہیں

مظفر آباد/لاہور(نمائندگان جسارت)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63-اے کی تشریح سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ جمہوریت کی مضبوطی کی جانب بڑا قدم ہے۔اعلیٰ عدلیہ قوم کی امیدوں کا مرکز بن گئی۔ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہو گی۔ لوٹاکریسی کلچر کے خاتمے سے ہی قوم کا جمہوریت پر اعتماد بحال ہو گا۔ سیاسی جماعتیں فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل کریںاور اپنے اندر جمہوریت بھی لائیں۔ سیاسی جماعتوں میں خاندانی اجارہ داریاں اور ون مین ڈکٹیٹرشپ قائم ہے۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ پاکستان 75برس سے سسک رہا ہے، 2 فیصد اشرافیہ نے اسے کھوکھلا کردیا۔ کشمیر کا سودا کیا گیا۔ ماضی کے اور موجودہ حکمرانوں نے کشمیر پر بھارت کے سامنے مکمل پسپائی اختیار کی۔ یاد رکھیں جس حکمران نے بھی کشمیریوں کے خون سے غداری کی وہ عبرت کا نشان بنے گا۔ پاکستانی حکمرانوں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے آزادی کشمیر کی منزل دور ہو گئی، مگر یقین ہے کہ مقبوضہ کشمیر جلد آزاد ہوگا۔ پوری پاکستانی قوم اور جماعت اسلامی کشمیریوں کی صبح آزادی تک ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ کشمیری 7 دہائیوں سے اسلام اور پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے مظفرآباد میں عید ملن تقریب، جمعیت طلبہ عربیہ کے زیر اہتمام آل پاکستان لیڈر شپ کیمپ اور اراکین جماعت کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قائمقام امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر شیخ عقیل الرحمان ایڈووکیٹ،سیکرٹری جنرل محمدتنویر انور خان سمیت دیگر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔سراج الحق نے کہا کہ بی جے پی کی فاشسٹ حکومت روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے۔ جنوری 1989ء سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے تقریباً ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 7233کو زیرحراست شہید کیا گیا۔ بھارتی قابض افواج نے پونے 2 لاکھ کشمیریوں کو گرفتار، ایک لاکھ10 ہزار سے زاید عمارتوں کو مسمار اور ایک لاکھ سے زاید بچوں کو یتیم کیا۔ قابض فورسز نے 11225خواتین کی عصمت دری کی۔ اس ساری صورت حال میں ہماری حکومتوں نے مقبوضہ کشمیر کے ایشو پر نہ صرف خاموشی اختیار کیے رکھی بلکہ بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانے کی بھی کوششیں کیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ و سابق حکومت کے پاس مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کے لیے کوئی پالیسی موجود ہی نہیں۔ حکمرانوں نے گلگت و بلتستان پر پاکستان کے تاریخی موقف سے پیچھے ہٹ کر مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ قدرتی وسائل سے مالا مال گلگت بلتستان کے خطے کو سابق حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی نظرانداز کر رہی ہے۔ گزشتہ 5ہفتوں سے ملک پر پی ڈی ایم اور پی پی پی کی حکومت قائم ہے، لیکن موجودہ صورت حال نے ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی اور موجودہ اتحادی حکومت کی کشمیرپالیسی میں کوئی فرق نہیں۔ سودی معیشت، مغرب اور استعمار سے وفاداری، سیکولرایجنڈے کا تسلسل اور کشمیر پر خاموشی سمیت دیگر بے شمار ایشوز پر تینوں کی سوچ یکساں ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت کشمیر کی آزادی کے لیے نیشنل ایکشن پلان دے۔ پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں۔ حکومت نائب وزیرخارجہ تعینات کرے جو صرف کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ذمے داری سرانجام دے۔ پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد تشکیل دیا جائے، جو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ قیادت اور تھنک ٹینک سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ملاقات کرے۔ آزاد کشمیر حکومت میں مقبوضہ کشمیر کے نمائندوں کو شامل کر کے اسے پورے کشمیر کی حکومت تسلیم کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ حکمران جماعتیں اسٹیٹس کو جاری رکھنا چاہتی ہیں اور صرف جھوٹے وعدے کرکے عوام کوبہلاوہ دیتی ہیں۔ قوم سے کہتا ہوں ان کے دھوکے میں نہ آئے بلکہ مخلص، ایمان دار اور اہل افراد کو خدمت کا موقع ملنا چاہیے تاکہ ملک حقیقی معنوں میں اسلام کا قلعہ اور خوشحالی و ترقی کا مرکز بن جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں