مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین میں زمینوں پر یہود کے قبضے کے بعد فلسطینی غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا کے گاؤں جنبا میں مسماری مہم کے بعد فلسطینی خاتون نجاح جبارین اپنے 17 افراد پر مشتمل کنبے کے ساتھ ایک پرانے غار میں رہایش پزیر ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے الخلیل شہر کے قصبے میں مسماری مہم شروع کی تھی،جس کے بعد وہاں آباد 40میں سے 36گھروں کو منہدم کردیا گیا۔ پہاڑوں میں پناہ گزیں افراد انتہائی کسمپرسی کا شکار ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی حکومت نے جمعہ کے روز الخلیل کے شمال میں عروب مہاجر کیمپ میں احاب طیطی نامی فلسطینی کا مکان مسمار کیا۔ دوسری جانب صہیونی حکومت کی جانب سے عربوں سے تعصب کے مظاہرے پر اسرائیلی خاتون رکن پارلیمان نے استعفا دے دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق خاتون رکن پارلیمنٹ غیدا ریناوی زعبی کا استعفا کمزور حکومتی اتحاد کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔ زعبی نے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور وزیر خارجہ یائر لیپڈ کو بھیجے گئے خط میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت میں دائیں بازو کا حلقہ مضبوط ہو رہا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کی بڑی وجہ حکومت کا عربوں کے حوالے سے سخت گیر موقف ہے۔ بالخصوص مسجد اقصیٰ کے حالات ،جہاں اسرائیلی پولیس رمضان میں بھی نمازیوں پر تشدد کرتے رہے۔