اسلام آباد/کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک/ اسٹاف رپورٹر)انڈس ریورسسٹم اتھارٹی (ارسا) نے پانی کابحران سنگین ہونے کاخدشہ ظاہر کردیا، چاروں صوبائی سیکرٹریز کو لکھے گئے خط میں ارسانے کہا ہے کہ شمالی علاقہ جات میںدرجہ حرارت کم ہونے کے باعث برف پگھلنے کاعمل سست ہے،اس وجہ سے دریاؤں میں پانی کابہاؤ بتدریج کم ہورہا ہے۔15تا20مئی پانی کابہاؤ 2لاکھ 60ہزار کیوسک سے کم ہوکر ایک لاکھ 62ہزار کیوسک رہ گیاہے ،جبکہ تربیلا اورمنگلا ڈیم میں بھی پانی کاذخیرہ کم ہے۔صوبوں کے پانی کے حصے میںکٹوتی ہوسکتی ہے۔ صوبے پانی کے استعمال میں احتیاط کریںاور پانی ضائع ہونے سے بچائیں۔ ادھر سندھ میں زرعی پانی کی قلت شدت اختیار کرگئی ہے،سندھ حکومت نے پانی کی قلت کے باعث صوبے میں خریف کی فصلیں کم ہونے کے سبب مستقبل میں خوراک کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ مشیر زراعت سندھ منظوروسان کا کہناہے کہ سندھ کو زرعی پانی ملا کب ہے جو ارسا احتیاط سے استعمال کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ خریف کا سیزن شروع ہوچکاہے اورپانی نہ ملنے کی وجہ سے ابھی تک سندھ میں چاول کی فصل کاشت نہیں ہوسکی،ارسا اور پنجاب سندھ بلوچستان کے حصے کا پانی چوری کرنے میں ملوث ہیں، وزیراعظم ارساکی سرزنش کریں۔