آج کے ترکی کے اہم اخبارات کی اہم خبروں کے ساتھ حاضرِ خدمت ہیں ۔
روزنامہ خبر ترک : "آپریشن قومی ضرورت ہے”
صدر رجب طیب ایردوان کی صدارت میں قومی سلامتی کونسل (ایم جی کے) کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہماری جنوبی سرحد پر آپریشن قومی ضرورت ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
روزنامہ صباح: "ترکی کا اتحادیوں سے مطالبہ: دہشت گردی کی حمایت نہ کریں”
ترکی نے اعلان کیا کہ وہ ہمیشہ بین الاقوامی اتحاد میں اتحاد کی روح اور قانون کی پاسداری کرتا ہے اور وہ اپنے اتحادیوں سے اسی ذمہ داری اور خلوص کی توقع رکھتا ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے کل کے بیان میں دہشت گردی کی حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے اس رویہ کو ختم کرنے اور ترکی کی سلامتی کی حساسیت پر غور کرنے کی اپیل کی گئی۔
روزنامہ وطن: "اسٹولٹن برگ ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حق پر ہے "
نیٹو کے سیکرٹری جنرل ہینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ ” دہشت گرد حملوں سے جتنا نقصان ترکی کو پہنچا ہ اتنا نقصان کسی اور ملک کو نہیں پہنچا ۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ترکی کی جنگ کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد میں رکنیت کے لیے سویڈن اور فن لینڈ کی درخواست کے تناظر میں ترکی کو کچھ مطالبات کرنے کا حق ہے اور جب کسی اتحادی کو خدشات ہوں تو ان خدشات کو دور کیا جانا چاہیے۔
روزنامہ اسٹار : "چاووش اولو کی طرف سے واضح انتباہ: ہم ن بلف ہیں کر رہے ہیں”
وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے بین الاقوامی معاہدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یونان کے بحیرہ ایجیئن میں جزائر کو مسلح کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے تَرک نہیں کیا گیا تو خودمختاری پر بحث شروع ہو جائے گی، چاووش اولو نے کہا، "ہم بغض نہیں کر رہے ہیں۔ اگر یونان اس کی تعمیل نہیں کرتا ہے تو ہم اس معاملے کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یونانی اقدامات سے ترکی کو خطرہ لاحق ہے۔
روزنامہ حریت: "ٹیکنو فیسٹ آذربائیجان کا جوش و خروش سے آغاز”
ٹیکمو فیسٹ ایوی ایشن، اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی فیسٹیول، جو دنیا کے معروف ٹیکنالوجی فیسٹیولز میں اپنی جگہ بنا چکا ہے کل آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں شروع ہوا۔ ٹیکنو فیسٹ میں 5 ہزار افراد حصہ لیں گے، جس میں 120 ہزار مربع میٹر کے رقبے میں 4 دنوں تک 50 ہزار زائرین کی آمد متوقع ہے۔ Bayraktar اور Akıncı کے علاوہ، ترکی کے ڈرانز ۔ ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑیاں میلے میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔