وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان نے وفاق پر چڑھائی کر
کے اپنے عہدے کا غیر آئینی استعمال کیا۔پی ٹی آئی کے مارچ میں مسلح پولیس افسران کے ہمراہ وزیر اعلی کے پی
کی شرکت وفاق پرحملہ ہے۔
وفاقی حکومت نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے غیر آئینی اقدام پر قانونی کاروائی کا فیصلہ کیاہے-انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کیخلاف آئینی کاروائی کیلئے وزارت قانون سے رائے طلب کر لی گئی ہے۔وزارت قانون سے حاصل قانونی رائے پر عمل کرینگے۔خیبر پختونخواہ میں تعینات وفاقی سرکاری ملازمین نے پی ٹی آئی کے فتنہ مارچ میں سہولت کاری فراہم کی ہے ۔صوبہ خیبر پختونخوا میں تعینات وفاقی پولیس افسران اور انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں کیخلاف بھی ایسٹا کوڈ کے تحت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بعض پولیس افسران مسلح ہو کر پی ٹی آئی کے فتنہ مارچ میں وفاق پر چڑھائی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ایسے افسران کیخلاف اپنے عہدوں کا برخلاف قانون استعمال کرنے پرکاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔خیبر پختونخواہ میں وفاق کے تعینات پولیس اور انتطامیہ کے بعض افسران سیاسی جماعت کے آلہ کار بنے۔۔
No related posts.