مظفرآباد(صباح نیوز)وفاقی وزارت خزانہ کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے لیے دی جانے والی گرانٹ میں نمایاں کمی کے بعد آزاد کشمیر کی 5سرکاری جامعات سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں قائم 141 سرکاری جامعات کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ حکومت نے اگلے مالی سال میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے موجودہ سالانہ بجٹ 65ارب روپے میں کمی کر کے 30ارب روپے کرنے کی تجویز دی جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 141 جامعات کے لیے 104 ارب روپے کی ڈیمانڈ کی تھی۔ وفاقی وزارت خزانہ کے اس حیران کن فیصلے کے بعد طلبا،طالبات کی اکثریت کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا کیونکہ ملک بھر کی جامعات ایچ ای سی کی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں۔ ایچ ای سی کی فنڈنگ میں 60 سے 70 فیصد کمی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد گزشتہ روز آزاد کشمیر کی جامعات سمیت ملک بھر کی 120 سے زیادہ جامعات کے وائس چانسلر نے ایک ورچوئل کانفرنس میں حکومت کے فیصلے پر سخت تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور ایسا کوئی قدم نہ اُٹھائے جس سے ملک بھر کے نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں پڑجائے۔