ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور رحیم یار خان کیمپس میں جنسی ہراسانی شکایات پر انتقامی کارروائیاں

بہاولپور (عامر حسینی چیف رپورٹر جنوبی پنجاب ) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور رحیم یار خان کیمپس میں خواتین اساتذہ اور طالبات سے جنسی ہراسانی کے واقعہ کی خبر شایع ہونے کے بعد وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی اطہر محبوب اور دیگر انتظامی افسران نے جنسی ہراسانی میں مبینہ طور پر ملوث ڈائریکٹر رحیم یارخان کیمپس عمیر اشرف اور فہد جاوید بیگ کو بجانے کے لیے شکایات کنندہ تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف ممبران کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا- سیکرٹری ہائرایچوکیشن کمیشن لاہور کو خط کے زریعے معاملے کی اطلاع دینے والے رحیم یار خان کیمپس کے فیکلٹی اور نان فیکلٹی ممبران کو خط سے اظہار لاتعلقی کرنے کا حکم، حکم نہ ماننے کی صورت میں نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں-

اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور رحیم یار خان کیمپس کے تدریسی و غیر تدریسی اسٹااف میں سے جن ممبران نے سیکرٹری ہائر ايجوکیشن کمیشن پنجاب کو کمیپس کے ڈآئریکٹر آفس میں طالبات اور خواتین اساتذہ سے جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ کے واقعات معمول بن جانے کی بعذریہ خط شکایت کی تھی انھوں نے خبروالے سے رابطہ کیا اور بتایا کہ جنسی ہراسانی میں ملوث ڈائریکٹر عیمر اشرف اور افسر فہد جاوید بیگ کی طرف سے انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں کہ اگر خط سے لاتعلقی ظاہر نہ کی تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا- شعبہ انگریزی میں اسٹنٹ پروفیسر دآکٹر زوہیب نے خبروالے سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان پر اور ان کے ساتھی فیکلٹی ممبران پر وائس چانسلر آفس سے بھی شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنسی ہراسانی جیسے سنگین واقعے کی خبر کی اشاعت کے فوری بعد اور سوشل میڈیا پر اس کے وائرل ہونے کے بعد ڈائریکٹر رحیم یار خان کیمپس آفس نے کیمپس کی طالبات اور اساتذہ سے اس واقعے کے من گھڑت ہونے اور بے بنیاد ہونے کے ایک بیان پر دسختط کرانے کی کوشش ہوئی ناکامی پر ایک جعلی بیان سوشسل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کردیا گیا- اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زوہیب کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر اطہر محبوب جنسی ہراسانی کے متاثرہ فریق کی شکیایت پر انکوائری بٹھانے کی بجائے الٹا متاثرہ فریق کو خاموش ہوجانے کا مشورہ دے رہے ہیں جو قطعی انصاف نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کو ارسال کی گئی نقل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے وٹس ایپ نمبر پر بھیج دی ہے اور ان سے بھی اس واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔ سٹی پریس کلب رجسٹرڈ بہاولپور کے صدر صحافی جمال یوسف نے گورنر پنجاب ، وزیراعلی پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے- ان کا کہنا تھا کہ وی سی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اطہر محبوب جامعہ اسلامیہ بہاولپور ہی میں نہیں خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان میں بھی اپنے وی سی شپ کے زمانے سے مبینہ طور پر اوباش، جنسیت زدہ بیمار نفسیاتی مریض افراد کو اہم انتظامی عہدے دے کر جامعات کا ماحول خراب کرتے رہے ہیں- انھوں نے الزام عائد کیا کہ وی سی جامعہ بہاولپور کی اشیر باد سے عمیر اشرف ڈائریکٹر رحیم یار خان کیمپس لگا جہاں اس نے نہ صرف بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں کیں بلکہ اپنی بیمار نفسیات کے تحت طالبات اور خواتین اساتذہ کا جینا حرام کررکھا ہے۔ ادھر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے میڈیا ڈائریکٹر شہزاد خالد جنھوں نے گزشتہ روز ‍خبروالے کے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود متعلقہ واقعہ پر کوئی بھی موقف نہ دیا اور نہ کی کال اٹینڈ کی لیکن انھوں نے ایک وٹس ایپ میسج کے زریعے اپنا رد عمل دیا- انھوں نے واقعہ کو شریف لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے مترادف قرار دیا- ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اگر ڈائریکٹر کے خلاف تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کا خط سامنے ہے تو ایک دوسرا خط ان کے حق میں بھی ہے- روزنامہ سلطان نیوز ملتان نے ڈائریکٹر میڈیا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے موافق خط کی نقل بھجوانے اور جن لوگوں نے حمایت میں خط لکھا ہے ان کے رابطہ نمبر ارسال کرنے کو کہا تو رپورٹ فائل کیے جانے تک نہ تو خط کی نقل موصول ہوئی اور نہ ہی رابطہ نمبر فراہم کیے گئے- دوسری جانب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر اطہر محبوب کے موبائل نمبر، سرکاری نمبرز پر بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ، وٹس ایپ وائس و ٹیکسٹ میسج بھیج کر ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی جواب نہ دیا گیا- –

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں