کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) دریاؤں میں پانی کی کمی سنگین آبی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے‘ ملک میں پانی کوئی قلت نہیں‘ ڈیموں کی کمی سے سالانہ21 ارب روپے کا پانی بے جا استعمال سے ضائع اور سمندر برد ہو جاتا ہے‘ ہم صرف10 فیصد پانی ہی ذخیرہ کر پاتے ہیں‘ سیلابی پانی کو جمع کرنے کے لیے ڈیموں کی تیاری، جدید آبپاشی نظام کا قیام اور واٹر کی ری سائیکلنگ پر جنگی بنادوں پر کام کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مختلف سماجی اداروں سے منسلک، معروف آبی ماہر و سینئر صحافی عافیہ سلام، سینئر صحافی، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ اور بین الاقوامی یونین برائے تحفظ فطرت کے میگزین ایڈیٹرشبینہ فراز، کراچی اربن لیب، آئی بی اے میں اربن پلانر، ریسرچر، تجزیہ کار اور بحریہ یونیورسٹی ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز ڈپارٹمنٹ سے منسلک و ماہر شہری منصوبہ بندی محمد توحید اور پاکستان ترکی بزنس فورم کے بانی و صدر معروف ماہر معاشیات اور آبی ماہر محمد فاروق افضل نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا دریاؤں میں پانی کی کمی ملک میں سنگین بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے؟‘‘ عافیہ سلام نے کہا کہ دریاؤں میں پانی کی کمی ملک میں سنگین بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے‘ پاکستان میں قدرت کی طرف سے عطا کردہ آبی وسائل کی بہتاب کے باوجود اس کے ذخائر میں دن بدن کمی آتی جا رہی ہے کیونکہ پانی کی کثیر مقدار ہر سال بغیر کسی استعمال کے سمندر میں چلی جاتی ہے ، یا پھر بے جا استعمال سے ضائع ہو جاتی ہے‘پاکستان میںآبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسی تیزی سے پانی کے وسائل کم ہو رہے ہیں‘ ہم تیزی سے قلت آب کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ اگر آبی وسائل کا پائیدار بنیادوں پر مناسب انتظام نہ کیا گیا تو پاکستان میں بہت سارے علاقے خشک اور بنجر ہو جائیں گے جو کہ ہماری بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ایٹم بم سے کم نہیں ہے‘ پانی کی کمی کے اثرات نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے‘ سمندر اور دریاؤں کے آس پاس کی آبادی نے ماحولیاتی، موسمی تغیراتی عمل کی وجہ سے نقل مکانی شروع کردی ہے جس سے شہروں میں بحرانی کیفیت پیدا ہو رہی ہے‘ آبادی کے بڑھنے، جنگلات کو بیدریغ کاٹنے اور زمین کو تجارتی اور رہائشی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے، صنعتی انقلاب کے نام پر ماحول کو نیست ونابود کرنے اور صنعتوں اور رہائشی فضلے کو سمندر اور دریاؤں میں بہانے کی وجہ سے بہت سارے قدرتی چشمے خشک، جھیلیں اور دیگر آبی ذخائر آلودہ ہو چکے ہیں‘ زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال اور زرعی آبپاشی کے لیے غیر روایتی اور پرانے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں‘ آبی مشکلات سے نمٹے بغیر پائیدار معاشی و سماجی ترقی خاص کر غربت میں کمی، روزگار میں اضافہ، صحت، تعلیم اور ماحولیاتی ترقی کے اہداف کا حصول ممکن نہیں ہے۔شبینہ فراز نے کہاکہ پاکستان میں پانی کی قلت کی اہم وجہ ڈیموں کی کمی ہے‘ ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے‘ پاکستان پانی کا صرف10 فیصد ہی ذخیرہ کر پاتا ہے‘انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اگر ملک میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا جبکہ آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی مختلف رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040ء تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے‘پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف 2 بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات بھی کیے جائیں‘ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے مزید3 ڈیموں کی ضرورت ہے جس کی مدد پانی کو محفوظ رکھنا ممکن ہو سکے گا۔ محمد توحید نے کہا کہ پانی کا مسئلہ نیا نہیں لیکن آہستہ آہستہ سنگین نوعیت اختیار کر رہا ہے‘ ہم دنیا کے ان 36 ممالک میں شامل ہیں جہاں پانی کا سنگین بحران ہے‘ دنیا میں پانی کے بحران کا شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے‘ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا انحصار بھی زراعت پر ہی ہے‘پرانے فرسودہ کاشتکاری کے رائج طریقہ کار کی وجہ سے فصلوں کی کاشت کے دوران ملک کا 95 فیصدپانی استعمال ہو جاتا ہے‘جو نہایت سنگین معاملہ ہے‘ آبپاشی کے ناقص نظام کی وجہ سے 60 فیصد ملک کا پانی ضائع ہو رہا ہے‘ ماحولیاتی تبدیلی بھی ملک میں پانی بحران کا اہم سبب ہے‘پاکستان بارش، برف اور گلیشیئر پگھلنے سے اپنا پانی حاصل کرتا ہے کیونکہ ملک کا 92 فیصد حصہ نیم بنجر ہے لہٰذا پاکستان اپنی پانی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے بارش پر انحصارکرتا ہے‘ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے مٹی میں موجود پانی بھی تیزی سے بخارات بن کر سوکھ رہا ہے، جس سے فصلوں کے لیے پانی کی طلب میں اور بھی اضافہ ہو رہا ہے‘پانی کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جا سکتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں‘ جن علاقوں میں جنگلات اور نباتات کی فراوانی ہے وہاں نہ صرف بارشیں زیادہ ہوتی ہیں بلکہ ان سے سیلاب کے اثرات بھی کمہوتے ہیں‘ درخت کی جڑوں سے جذب ہونے والا زیر زمین پانی آبی ذخائر میں اضافے کا بھی باعث بنتا ہے‘ پانی کا صحیح استعمال ہماری اخلاقی ، سماجی، معاشرتی اور مذہبی ذمہ داری کا اول جز ہے‘ سمندری کھارے پانی کو قابل استعمال بنانے اور استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے پالیسی بنائی جائے ۔ محمد فاروق افضل نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ پانی کی قلت نہیں ہے‘ پانی کا غیر پائیدار استعمال اور اس کا ضائع ہونا زیادہ سنجیدہ مسئلہ ہے‘ 2010ء سے لے کر اب تک پانی ملک میں سیلاب کی صورت میں وافر مقدار میں پانی آتا رہا ہے مگر درکار اسٹوریج اور انفراسٹرکچر کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے‘ پانی کے بہتر اور پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے زراعت، گھریلو اور صنعتی سطح پر پانی کے غیر ضروری استعمال کو روکنے، بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے چھوٹے بڑے تالابوں کی تیاری، جدید آبپاشی ٹیکنالوجی تک کسانوں کی آسان رسائی، صنعتی اور گھریلو ویسٹ واٹر کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو ریگستان ہونے سے بچایا جاسکتا ہے‘ پانی کا بحران اتنی تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے کہ 2050ء تک اس کی دستیابی میں مزید 30 فیصد کمی آجائے گی اور اس کے نتیجے میں خوراک کی پیداوار مزید 70 لاکھ ٹن سالانہ نیچے چلی جائے گی ۔