ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

زہر کھانے کے پیسے نہیں، لیکن اشتہار لاکھوں کے

موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی خزانہ خالی ہونے اور معیشت کی دگرگوں صورتحال کا رونا شروع کر دیا تھا۔ یکمشت 30 روپے کا پیٹرول بم بھی عوام پر گرانا اسی حکومت کا خاصا رہا ہے۔ سابق حکومت کے جاتے ہی عام عوام کی زندگی مزید تنگ ہونا شروع ہو گئی ہے۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی اور حکومتی غیر سنجیدگی سے عوام میں اضطراب مزید بڑھ رہا ہے۔

موجودہ حکومت نے گیارہ جماعتوں کے اتحاد اور سیاسی جمع مائینس سے اقتدار تو حاصل کر لیا مگر عام عوام کے دکھوں کا مداوا نہ ہو سکا۔۔ سرکاری اداروں میں بھی ملازمین کی حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ موجودہ حکومت سیاسی بیان بازی اور میڈیا کو کروڑوں کے اشتہار دے کر ڈنگ ٹپاو کی پالیسی پہ قائم ہے۔ خزانہ خالی ہونے کا واویلا مچانے والی حکومت ہر دوسرے دن میڈیا کو ہاف پیج اشتہارات سے نواز رہی ہے۔ جبکہ شہباز شریف صاحب کا 40 روز میں بیرون ملک کا کوئی چوتھا پانچواں دورہ ہے۔ ترکی کے ساتھ مضبوط تعلقات سے انکار نہیں مگر موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر 54 افراد کا لاو لشکر دورے پہ لیجانا کہاں کی دانشمندی ہے

پنجاب کابینہ بھی کوئی ڈیڑھ دو ماہ بعد کومہ میں رہنے کے بعد اب ہوش میں آئی ہے ۔ گورنر پنجاب نیب کیسز میں مطلوب جبکہ ملک کا وزیر داخلہ منشیات کیس میں پیشیاں بھگت رہا ہے۔ ساری کابینہ کے کوئی ساٹھ فی صد سے زائد ارکان کسی نہ کسی کیس میں مطلوب ہیں۔

سابق حکومت نے تو عوام کو پریشان کیا ہو شاید لیکن موجودہ حکومت تو عوام کی سنگین پہ انگوٹھا رکھ کے انہیں عالم ارواح میں پہنچانے کے درپے ہیں۔ لانگ مارچ یا احتجاج شاید اس وقت ملک کی ضرورت نہ ہو مگر تمام سیاسی جماعتوں اور رنگ برنگی حکومت کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ دو وقت کی روٹی اور کچھ بنیادی سہولیات اس ملک کے کروڑوں عوام کی ضرورت ہیں حالات ہاتھ سے نکلے تو بہت دور تک جائیں گے
لہذا حکومت کو ایک مفت مشورہ ہے کہ اشتہاز بازی اور رنگ بازی سے نکل کر واقعی حقیقی اقدامات سے عوام کو ریلیف دیں وگرنہ ملک میں حکومتیں بدلتے دیر نہیں لگتی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں