جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر تحریری فیصلے میں اکثریتی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 25 مئی کے حکم کی خلاف ورزی پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے کافی مواد موجود ہے، انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کا حکم دیا۔
تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ نے احتجاج سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا۔
تاہم سپریم کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ میری رائے میں عمران خان نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی۔ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے کافی مواد موجود ہے۔ عمران خان سے پوچھا جائے کیوں نہ آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
Justice Yahya Afridi while dissenting majority opinion has observed that there is sufficient material to initiate contempt proceeding against ex PM Imran Khan over violation of SC’s May 25 order and ordered party workers to reach D Chowk. pic.twitter.com/jnRJy9TXm1
— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) June 1, 2022
سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، آئی جی اسلام آباد اور دیگر سے پی ٹی آئی کارکنوں کی 25 مئی کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی چوک آمد پر رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ حقائق کی تصدیق کے بعد سپریم کورٹ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے یا نہیں؟
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اور مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا ہے۔ لانگ مارچ کے ختم ہونے کے بعد تمام شاہراہوں کو کھول دیا گیا ہے۔ آزادانہ نقل وحرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ درخواست دائر کرنے کا مقصد پورا ہو چکا ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو نمٹایا جاتا ہے۔
Supreme Court majority judgment has sought reports from DG ISI, DG IB, IG Islamabad others over arrival of PTI workers at D Chowk in violation of May 25 order. After verification of facts, SC will decide as whether it initiate contempt proceeding or not. pic.twitter.com/WuaXIMswmv
— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) June 1, 2022
تفصیلی فیصلے میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکرٹری وزارت داخلہ سے بھی ایک ہفتے میں سات سوالوں کے جواب طلب کئے گئے ہیں۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران خان نے پارٹی ورکرز کو کس وقت ڈی چوک جانے کی ہدایت کی؟ کس وقت پی ٹی آئی کارکنان ڈی چوک میں لگی رکاوٹوں سے آگے نکلے؟ کیا ڈی چوک ریڈ زون میں داخل ہونے والے ہجوم کی نگرانی کوئی کر رہا تھا؟
"We are disappointed to note that
the bona fide effort made by the Court was disrespected.Although it was meant to create harmony between the two opposing sides for the sake of protecting public interest and the constitutional rights of the people”, says SC majority order. https://t.co/ggFx3k7XVj— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) June 1, 2022
عدالت کی جانب سے سوالات پوچھے گئے ہیں کہ کیا حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہائی کی خلاف ورزی کی گئی؟ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ ریڈ زون کی سکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟ ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟ کیا سیکورٹی بیریئر کو توڑا گیا؟ کیا مظاہرین یا پارٹی ورکر جی نائن اور ایچ نائن گرائونڈ میں گئے؟
SC majority order says that it is apparent that the assurances conveyed to the Court by counsel for the top leadership of the PTI may have been dishonored by the workers/supporters/sympathizers of the party by proceeding to the D-Chowk in the Red Zone area.
— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) June 1, 2022
عدالت نے زخمی، گرفتار اور ہسپتال میں داخل ہونے والے مظاہرین کی تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ثبوتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائیگا کہ عدالتی حکم کی عدم عدولی ہوئی یا نہیں؟