گوادر: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ ہمارے پاس آپشن نہیں تھا، مجبورا قیمتیں بڑھانا پڑی، غریب لوگوں کو ہم نے 2 ہزارروپے سبسڈی دی ہے، غریب عوام کو مزید ریلیف فراہم کریں گے۔ مجھ سمیت تمام وزرا کو سادگی اختیارکرنا ہو گی ، اشرافیہ سادگی اختیارکرے، غریب عوام نے75سالوں میں قربانیاں دی ہے۔
گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں ہونے والے تعمیراتی کام کا فضائی دورہ کیا اور حکومت چین کی گرانٹ سے تعمیر کیا جانے والے گوادر ایئرپورٹ سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ چین نے جو عمدہ کوالٹی کی موٹر وے بنائی ہے ایسٹ بے ایکسپریس وے آج ہم نے اس کا افتتاح کیا ہے اور اس کراچی تک سامان پہنچانے کے لیے راستے کو منسلک کردیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چین کی ناظم الامور اور وزیر اعلی بلوچستان کے ساتھ مل کر جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور یہاں کام کی رفتار تسلی بخش نہیں ہے، ابھی تک گوادر ایئرپورٹ مکمل نہیں ہوسکا اور 18-2017 میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، یہ ابھی تک تعمیر کے مراحل طے کررہا ہے حالانکہ یہ سو فیصد چین کے صدر اور وزیراعظم نے ہمیں تحفتا عطا کیا ہے لیکن اس کو بھی ہم مکمل نہیں کر پائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ احسن اقبال تمام منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں، چین کے بھائیوں کو بہترسیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، چین نے 3200 گھرانوں کو سولرپینل بھی مہیا کیے ہیں، گوادرمیں چین کی مدد سے ہسپتال بھی بنایا گیا ہے، گوادرایئرپورٹ سو فیصد چین کی گرانٹ سے بن رہا ہے، عوام کوابھی تک صاف پانی بھی مہیا نہیں کیا جاسکا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح دوسرے معاملات سست روی کا شکارہے، تمام متعلقہ افسران فوری طور پر احسن اقبال کو ہرمنصوبے کی ٹائم لائن مقرر کریں، گوادر پورٹ کا شمار دنیا کے اہم ترین پورٹ میں ہوتا ہے، گوادرکے لیے ڈی سیلی نیشن پلانٹ فوری لگانے کا فیصلہ کیا ہے، ایران سے اگر بجلی آئے گی تو بہت خوشی ہو گی، ایران سے بجلی لانے کا منصوبہ تاخیر کا شکار رہا، چین کی کمپنی نے گوادر کے 3200 گھرانوں کو سولرپینل عطیہ کیے۔